سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر ڈاکٹر جتندر سنگھ نے کہا ہے کہ بھارت اپنے نیوکلیائی توانائی کے پروگرام میں ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے، جہاں توانائی کی یقینی فراہمی کو مستحکم کرنے اور اعلیٰ حفاظتی معیار کو برقرار رکھنے کیلئے اصلاحات کی جا رہی ہیں۔ نئی دلّی میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ حکومت حال ہی میں منظور شدہ نیوکلیائی قوانین کے تحت تفصیلی ضابطے تشکیل دے رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نیوکلیائی شعبے کو غیر سرکاری حصہ داری کیلئے کھول رہی ہے، جس میں پرائیویٹ کمپنیاں بھی شامل ہیں، البتہ اس میں حفاظتی تدابیر ضروری ہوں گی۔
ڈاکٹر سنگھ نے مزید کہا کہ بھارت کی سب سے بڑی طاقت حکمرانی اور عوامی فلاح و بہبود کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔
وزیر موصوف نے کہا کہ ملک کی طویل مدتی توانائی کے امتزاج میں متبادل توانائی اور نیوکلیائی توانائی کے درمیان توازن برقرار رکھا جائے گا، تاکہ آب و ہوا کی تبدیلی کی روک تھام کے عزائم، اسٹریٹجک ضروریات اور اقتصادی ترقی کو پورا کیا جا سکے۔×