January 21, 2026 3:58 PM | Russia Greenland

printer

  روس کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ گرین لینڈ ڈِنمارک کا قدرتی حصہ نہیں ہے۔ انہوں نے اِس کو نوآبادیاتی وراثت کہتے ہوئے اس کو اقوام متحدہ چارٹر کی خلاف ورزی بتایا۔

روس کے وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا ہے کہ گرین لینڈ، ڈنمارک کا فطری حصہ نہیں ہے اور یہ نوآبادیاتی دور کی ایک وراثت ہے جو اقوام متحدہ کے چارٹر کی روح کے منافی ہے۔ کَل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جناب لاوروف نے کہا کہ گرین لینڈ تاریخی طور پر ناروے اور ڈنمارک کی کالونی رہا ہے اور بیسویں صدی کے وسط میں ہی یہ ڈنمارک سے وابستہ ایک علاقہ بنا۔ انہوں نے کہا کہ  اقوام متحدہ میں اب بھی 17 ایسے علاقے درج ہیں جو حکمراں طاقتوں کے زیرِ اقتدار خود مختار ہیں۔ انہوں نے فرانس اور برطانیہ سے متعلق مثالیں بھی دیں۔ روس کے وزیر خارجہ کے یہ بیانات اس لیے اہم ہیں کیونکہ روس اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا مستقل رکن ہے اور اسے ویٹو کا اختیار حاصل ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان یورپی ملکوں پر مرحلہ وار طریقے سے محصولات میں اضافہ کریں گے، جنہوں نے گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے ان کے اقدام کی مخالفت کی ہے، جس سے ڈنمارک کے نیم خودمختار علاقے گرین لینڈ پر تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔x