روس، یوکرین اور امریکی نمائندوں نے، ابوظبی میں امن بات چیت کے پہلے دور کا انعقاد کیا۔ یہ مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے۔

روس، یوکرین اور امریکہ کے نمائندوں نے کَل متحدہ عرب امارات میں، ابوظبی میں بات چیت کا انعقاد کیا۔ یہ، روس-کیف بحران کے حل کے سلسلے میں سہ ملکی بات چیت کا پہلا راؤنڈ ہے۔ میٹنگ میں سبھی تینوں ملکوں نے شرکت کی۔ روس اور یوکرین کے درمیان یہ تنازعہ تقریباً 4 سال پہلے شروع ہوا تھا۔

امریکی افسران نے بتایا کہ یہ بات چیت نتیجہ خیز رہی، جو آج بھی جاری رہے گی، جبکہ یوکرین کے صدر وولوومیر زیلنسکی نے کہا کہ روس کے صدر ولادیمیر پتن کو اِس جنگ کے خاتمے کیلئے تیار رہنا چاہیے، جو انہوں نے شروع کی تھی۔

کَل شام اِس اہم امن بات چیت کے پہلے دن جناب زیلنسکی نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ اِس سہ ملکی میٹنگ کے نتائج اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ وہ دیکھیں گے کہ آج بات چیت کس طرح آگے بڑھتی ہے اور اِس کے کیا نتائج برآمد ہوتے ہیں۔

البتہ اہم نکات، علاقائی معاملات رہیں گے، جن میں روس کا یہ مطالبہ بھی شامل ہے کہ یوکرین، Donetsk خطّے میں سے وہ 25 فیصد حصہ بھی چھوڑ دے، جس پر اب بھی کیف کا کنٹرول ہے۔

یہ سہ ملکی میٹنگ، صدر ولادیمیر پتن اور امریکی ایلچیوں Steve Witkoff اور Jared Kushner کی، ماسکو میں ایک طویل میٹنگ کے بعد کی گئی ہے، جسے روس نے کارآمد بتایا ہے۔×

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔