دیہی ترقی کے مرکزی وزیر شیوراج سنگھ چوہان نے آج کانگریس پارٹی کی نکتہ چینی کی کہ اُس نے مبینہ طور پر صرف سیاسی فائدے کیلئے قومی دیہی روزگار گارنٹی ایکٹ2005 میں مہاتما گاندھی کا نام شامل کیا تھا۔ سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ پر جناب چوہان نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے بار بار منریگا کے بجٹ میں کمی کی۔ انھوں نے کہا کہ وکست بھارت جی رام جی اسکیم کے تحت یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اِس سلسلے میں فیصلے اب دلّی میں نہیں بلکہ گائوں سطح پر کئے جائیں گے۔ انھوں نے کہا کہ گرام پنچایت ایک ساتھ بیٹھیں گی اور اپنے خود کے ترقیاتی منصوبے تیار کریں گی۔ وزیر موصوف نے کہا کہ اِس اسکیم کے تحت روزگار کو کم نہیں کیا گیا ہے بلکہ مزید مستحکم کیا گیا ہے۔ انھوں نے زور دے کر کہا کہ کام کے دنوں کی گارنٹی بڑھا کر 100 سے 125 دن کردی گئی ہے۔
جناب چوہان نے اِس بات کو بھی اجاگر کیا کہ اگر مقررہ وقت کے دوران کام فراہم نہیں کیا گیا تو نئے قانون کے تحت بے روزگاری بھتہ بھی دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ گرام سبھا اور پنچایتوں کے اختیارات کو کمزور نہیں بلکہ مزید مضبوط کیا گیا ہے۔ جناب چوہان نے زور دے کر کہا کہ نیا قانون کارکردگی کے سماجی جائزے کو لازمی بناتا ہے اور اس میں خواتین، اپنی مدد آپ گروپوں اور برادری کی سرگرم شمولیت پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے کہ سب سے پسماندہ پنچایتوں کو زیادہ فنڈ، زیادہ مدد اور زیادہ مواقع ملیں۔ وزیر موصوف نے مزید کہا کہ شفافیت اور وقت پر ادائیگیوں کے ذریعے مسلسل آمدنی پر خاص توجہ دی گئی ہے۔