January 1, 2026 9:51 PM

printer

دفاعی تحقیق وترقی کی تنظیم DRDO آج اپنا 68واں یومِ تاسیس منا رہا ہے۔ DRDO کا قیام 1958 میں وزارتِ دفاع کے تحقیق وترقی کے وِنگ کے طور پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھارت کو خودکفیل بنانا تھا۔

دفاعی تحقیق وترقی کی تنظیم DRDO آج اپنا 68واں یومِ تاسیس منا رہا ہے۔ DRDO کا قیام 1958 میں وزارتِ دفاع کے تحقیق وترقی کے وِنگ کے طور پر کیا گیا تھا، جس کا مقصد دفاعی مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھارت کو خودکفیل بنانا تھا۔ پچھلے برسوں میں اس تنظیم نے موضوعاتی شعبوں، لیباریٹریوں کی تعداد، کامیابیوں اور اپنے قدوقامت کے اعتبار سے وسیع طور پر وسعت پائی ہے۔
صرف دس اداروں کے ساتھ ایک چھوٹی تنظیم سے اپنی شروعات سے، آج DRDO تقریباً 41 لیباریٹریوں اور پانچ نوجوانوں سائنسدانوں کی لیباریٹریوں (DYSLs) کا ایک نیٹ ورک بنا چکی ہے، جو مختلف شعبوں میں دفاعی ٹیکنالوجی کو ترقی دینے میں مصروف ہیں۔ 31 دسمبر کے مطابق اس نے اڈیشہ کے ساحل سے ایک لانچر سے یکے بعد دیگرے دو Pralay میزائل کو کامیابی کے ساتھ لانچ کیا ہے۔ اس سے قبل، ایک نمایاں سنگ میل اُس وقت حاصل کیا گیا تھا جب آکاش پرائم کے ذریعے لداخ میں بلندی پر دو فضائی تیز رفتار بغیر انسان والے نشانوں کو کامیابی کے ساتھ تباہ کیا گیا تھا۔ DRDO کے ذریعے تیار کردہ ہتھیاروں کے نظاموں نے آپریشن سندور کے دوران فیصلہ کن رول ادا کیا تھا۔پانچ ہزار سے زیادہ طالب علموں کو DRDO کی مختلف Labs میں، اِس کی Apprenticeship اسکیم کے تحت، تربیت دی جارہی ہے۔ تحقیق وترقی کا یہ ادارہ اُبھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس کے ساتھ آسانی سے تبادلہ خیال کرنے کیلئے ایک نئی پالیسی بھی لا رہا ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مسلح افواج کو جدید ترین ٹیکنالوجیوں سے لیس کرنے کے ذریعے بھارت کی دیسی صلاحیتوں کو مستحکم کرنے پر DRDO کی ستائش کی ہے۔ انھوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ یہ سُدرشن چکر وضع کرنے میں اہم رول ادا کرے گا تاکہ آنے والی دہائی میں مکمل فضائی تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے۔ خودکفالت اور جامع نظاموں کی پیداوار کے DRDO کے کارنامے نے دہائیوں میں بھارت کی فوجی قوت کو نمایاں دوام بخشا ہے۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔