حکومت نے کہا ہے کہ نکسل ازم سے سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع کی تعداد 6 سے کم ہوکر 3 رہ گئی ہے۔ اب چھتیس گڑھ میں، صرف بیجا پور، سُکما اور نارائن پور ایسے اضلاع رہ گئے ہیں، جو بائیں بازو کی انتہاپسندی سے زیادہ متاثر ہیں۔ ایک بیان میں وزارتِ داخلہ نے کہا کہ یہ تعداد، نکسل سے آزاد بھارت بنانے کے نریندر مودی حکومت کے عہد کیلئے وسیع تر کوششوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اس میں کہا گیا کہ اِس سال کارروائی جاتی کامیابیوں نے گذشتہ تمام ریکارڈس سے تجاوز کرلیا ہے، جس میں 312 ایل ڈبلیو ای کیڈر کو ختم کردیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ 800 سے زیادہ ایل ڈبلیو ای کیڈرس کو گرفتار کیا گیا ہے اور ایک ہزار 600 سے زیادہ نکسلیوں نے اصل دھارے میں شمولیت کیلئے خود سپردگی کرکے تشدد کی راہ ترک کردی ہے۔
وزارت نے کہا کہ مودی حکومت کے تحت قومی ایکشن پلان اور پالیسی کے سخت نفاذ کے ساتھ ہی، حکومت 31 مارچ 2026 تک نکسل کی لعنت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے تئیں عہد بند ہے۔ اس سے قبل دن میں 61 نکسلیوں نے مہاراشٹر کے Gadchiroli ضلعے میں خود سپردگی کردی، جبکہ 27 ماؤ نوازوں نے چھتیس گڑھ کے سُکما ضلعے میں خود سپردگی کی۔ مہاراشٹر میں سینٹرل نکسل کمیٹی کے پولٹ بیورو ممبر وینو گوپال راؤ عرف بھوپتی، اُن 61 کیڈرس میں شامل ہیں، جنہوں نے آج خود سپردگی کی ہے۔ اُن کے اوپر مجموعی طور سے چھ کروڑ روپے کا انعام تھا۔ چھتیس گڑھ میں 27 میں سے 16 ماؤ نوازوں پر مجموعی طور سے 50 لاکھ روپے کا انعام تھا۔
چھتیس گڑھ سرکار کی بازآباد کاری پالیسی کے تحت، خودسپردگی کرنے والے ہر ماؤ نواز کو، 50 ہزار روپے کی رقم اور دیگر فوائد فراہم کئے جائیں گے۔ x