شہری ہوا بازی کے مرکزی وزیر رام موہن نائیڈو نے کہا ہے کہ فضائی سلامتی کے معاملے میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ حکومت کی سب سے اولین ترجیح ہے۔ Flight Duty Time Limitation (FDTL) رہنما خطوط کے نفاذ سے متعلق ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے، جناب نائیڈو نے راجیہ سبھا کو مطلع کیا کہ حکومت مختلف پروازوں کے منسوخ کئے جانے کے سلسلے میں انکوائری کررہی ہے، جس کے سبب مسافروں کو کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت، اِس صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہی ہے اور اِس معاملے میں بہت سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی شخص یا شہری ہوا بازی کے تحت خدمات انجام دینے والی کسی تنظیم کی جانب سے رہنما خطوط کی تکمیل یا پابندی نہیں کی جاتی تو حکومت سخت کارروائی کرکے سبھی ایئرلائنس کیلئے ایک مثال قائم کرے گی۔
شہری ہوا بازی کے وزیر کے رام موہن نائیڈو نے راجیہ سبھا کو بتایا کہ حکومت فضائی کرایوں کی حد مقرر کی ہے کیونکہ بعض پروازوں کے منسوخ ہونے کی وجہ سے طیاروں کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ اضافی سوالات کے جواب میں جناب نائیڈو نے کہا کہ حکومت نے فاصلے کی بنیاد پر قیمتوں کے چار سلیب تیار کئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ حکومت فضائی کرایوں کے مقررہ حد کی مستقل نگرانی کر رہی ہے اور جب بھی کسی خاص موسم کے دوران کرایہ میں اضافہ دیکھا گیا تو حکومت نے سخت کارروائی کی ہے۔
شہری ہوا بازی کے وزارت نے بتایا کہ 5 لاکھ 86 ہزار 700 مسافروں کے ٹکٹ رد کئے گئے ہیں اور 1 سے 7 دسمبر کے درمیان 569 کروڑ روپئے سے زیادہ کا ریفنڈ کیا گیا ہے۔ وزارت نے یہ بھی کہا کہ مسافروں کے کُل 9 ہزار بیگ میں سے چار ہزار 500 بیگ کو حوالے کردیا گیا ہے، جبکہ بقیہ بیگ کو اگلے 36 گھنٹوں میں ان کے حوالے کردیا جائے گا۔