December 15, 2025 9:51 PM

printer

حکومت نے کہا ہے کہ خصوصی نظرثانی، انتخابی فہرستوں سے جعلی رائے دہندگان کو حذف کردے گی

راجیہ سبھا میں انتخابی اصلاحات سے متعلق آج بحث دوبارہ شروع ہوئی۔ قانون اور انصاف کے وزیر ارجن رام میگھوال نے کہا کہ اِس مقصد کیلئے SIR کی مشق کی جارہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ جو لوگ SIR کی مخالفت کر رہے ہیں وہ یہ بھول گئے ہیں کہ SIR اُس نظریے پر مبنی ہے جسے بھارتی آئین کے بانی بابا صاحب امبیڈکر نے پیش کیا تھا جس کے مطابق یکساں بالغ رائے دہندہ کا مطلب ’ایک فرد، ایک ووٹ، ایک رائے‘ پر مبنی ہے۔
بحث میں حصہ لیتے ہوئے AIADMK کے ڈاکٹر ایم تھمبی دُرئی نے کہا کہ واضح اور درست انتخابی فہرستیں، جمہوریت کو مستحکم کرتی ہیں اور شفافیت رائے دہندگان کو بااختیار بناتی ہے۔YSRCP کے وائی وی سُبّا ریڈی نے کہا کہ انتخابی اصلاحات ایک مسلسل اصلاحی عمل ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ انتخابات کے انعقاد میں ایمانداری، نتائج میں وضاحت اور سرکاری اعلان میں شفافیت ہونی چاہئے۔ انھوں نے انتخابات کی سرکاری طور پر CCTVs فوٹیج بنانے اور Live ویب کاسٹنگ کی گنجائش کو تمام پولنگ اسٹیشنوں پر لازمی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔ RJD کے سنجے یادو نے زور دے کر کہا کہ ملک کی انتخابی اصلاحات کو اصلاحات کی ایک نئے سلسلے کی ضرورت ہے جو انتخابی کمیشن کو مزید مستحکم کرسکے اور سیاسی پارٹیوں کو ذمے دار بنا سکے نیز انتخابات کے دوران پیسے کی طاقت کے استعمال کو ختم کرسکے۔ شیوسینا کے مرلی ملند دیورا نے کہا کہ SIR ایک بروقت اور ضروری عمل ہے۔ سماجوادی پارٹی کے پروفیسر رام گوپال یادو نے کہا کہ انتخابات بیلٹ کے ذریعے منعقد کئے جانے چاہئیں۔ عآپ کے سندیپ کمار پاٹھک نے اِس بات کو یقینی بنانے پر زور دیا کہ انتخابی کمیشن ایک آزاد ادارے کے طور پر اپنا کام کرے۔ NCP-SCP کی ڈاکٹر فوزیہ خان نے انتخابی اصلاحات سے متعلق ایک بہتر قانون تیار کرنے کیلئے ایک مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کرنے کی تجویز پیش کی۔ BJP کی Sulata Deo، کانگریس کے دِگ وجے سنگھ اور رندیپ سورجے والا، JMM کے ڈاکٹر سرفراز احمد، YSRCP کے ایس نرنجن ریڈی اور BJP کے دنیش شرما سمیت دیگر اراکین نے بھی بحث میں حصہ لیا۔ البتہ بحث نامکمل رہی اور چیئر نے ایوان کی کارروائی کَل صبح 11بجے تک کیلئے ملتوی کردی۔
لوک سبھا میں آج ’منسوخی اور ترمیم کرنے کا بل 2025‘ پیش کیا گیا۔ قانون اور انصاف کے وزیر ارجن رام میگھوال نے یہ کہتے ہوئے بل پیش کیا کہ یہ بل بعض قوانین کو منسوخ کرنے اور دیگر بعض قوانین میں ترمیم کرنے کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یہ بل، قانون ساز محکمے کے ذریعے شناخت شدہ فرسودہ قوانین کو منسوخ کرنے کی تجویز کرتا ہے۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔