حکومت نے آج سے ’ایک ملک ایک سبسکرپشن‘ اسکیم کا آغاز کیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ایک سبسکرپشن پلیٹ فارم کے ذریعہ، ریسرچ پیپر، رسالوں اور تعلیمی مواد سمیت دیگر ڈیجیٹل تعلیمی وسائل تک رسائی ہوسکے گی۔ اس اسکیم سے طلباء، محققین اور پورے ملک کے اداروں کو فائدہ ہوگا۔ اس اسکیم سے کئی سبسکرپشن حاصل کرنے کی پریشانیوں کا سَدِّ باب ہوجائے گا۔ یونیورسٹیوں اور IITs سمیت حکومت کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کے ایک کروڑ 80 لاکھ سے زیادہ طلباء کو پوری دنیا کے رسالوں میں شائع ہونے والے ریسرچ پیپرز تک رسائی ہوسکے گی۔
اِس اقدام کے پہلے مرحلے کے تحت سائنس ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، طب، الجبرا، انتظام، سماجی سائنس اور انسانیات سے متعلق 13 ہزار 400 بین الاقوامی رسالوں تک محققین رسائی حاصل کرسکیں گے۔ پرنسپل سائنسی مشیر پروفیسر اجے کمار سود نے بتایا کہ ONOS کے بعد کے مرحلوں میں تعلیم کے نجی اداروں کو بھی اس پلیٹ فارم کا استعمال کرنے کی اجازت دی جائے گی اور پھر ملک کے سبھی لوگ اس سے استفادہ کرسکیں گے۔
او این او ایس اسکیم کے لیے 3 سال کی مدت کا بجٹ 6 ہزار کروڑ روپے ہے اور یہ الیکٹرانک رسالوں کے سبسکرپشن کے لیے مرکز کے فنڈ والی اسکیم ہے۔ اِس اسکیم کے تحت مصنّفین کو فائدہ پہنچانے کے لیے مرکز کی طرف سے سالانہ 150 کروڑ روپے کا فنڈ بھی دیا جائے گا، تاکہ وہ اپنی تحریروں کو اعلیٰ معیار کے رسالوں میں شائع کراسکیں۔ مرکزی کابینہ نے پچھلے سال 25 نومبر کو ایک ملک- ایک سبسکرپشن اسکیم کو منظور کیا تھا۔