ایران میں حکومت مخالف مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو چکے ہیں۔ مواصلات پر ہفتوں سے لگی پابندی کے دوران کسی طرح بین الاقوامی فون کالز کرنے میں کامیاب رہے عینی شاہدین نے صورتحال کو بے انتہا تباہی سے تعبیر کیا ہے، جہاں بدامنی کے دوران کئی بینکوں اور حکومتی دفاتر کو آگ لگا دی گئی۔ انٹرنیٹ بند کیے جانے کی وجہ سے چوتھے دن بینکنگ کام کاج میں شدید رخنہ پڑا، جس سے مالیاتی ادارے، بنیادی لین دین کو مکمل کرنے میں جدّوجہد کرتے رہے، جبکہ موبائل فون خدمات بڑے پیمانے پر مفلوج رہیں۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ تہران، امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کسی بھی کارروائی کیلئے تیار ہے۔
امریکی صدر ٹرمپ نے ایران میں حکومت مخالف مظاہرین پر کارروائی کے بعد مداخلت سے متعلق اپنے متبادل پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ جناب عراقچی نے کہا کہ اس مرتبہ ایران کی تیاری اُس وقت سے کہیں زیادہ ہے، جب گزشتہ سال جون میں امریکہ نے ایران پر فوجی حملے کیے تھے۔ اس دوران ایران میں حکومت مخالف مظاہروں کے دوران حکومت کی کارروائی میں ہزاروں لوگوں کے مارے جانے کا خدشہ ہے۔ ایران کے سلامتی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے ایک نیوز ایجنسی نے خبر دی ہے کہ مرنے والوں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہو سکتی ہے۔
ایران میں، بڑھتے بحران کی وجہ سے مغربی ایشیاء میں بھارت کے اسٹریٹجک مفادات پر خاطر خواہ اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ وسطی ایشیاء، روس اور یوروپ سے بھارتی کنیکٹی وِٹی پروجیکٹوں کو جوڑنے میں ایران اہم ٹرانزٹ ہب کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں ایران کے جنوب مشرقی ساحل پر چابہار بندرگاہ بیحد اہمیت کی حامل ہے۔ یہ بندرگاہ بھارت کو پاکستان سے گزرنے کو پوری طرح ٹالتے ہوئے سیدھے طور پر افغانستان، وسطی ایشیاء اور یوروپ تک رسائی فراہم کرتی ہے۔ چابہار، بین الاقوامی شمال-جنوب ٹرانسپورٹ راہداری کا اہم جُز بھی ہے، جس سے بھارت کے ٹرانزٹ ٹائم میں تقریباً 40 فیصد اور لاجسٹک لاگت میں تقریباً 30 فیصد کی کمی آتی ہے۔ ایران کے بنیادی ڈھانچے، خاص طور پر چابہار کے کام کاج پر اثرانداز ہونے والا کسی بھی طرح کا طویل عدم استحکام، خطّے میں بھارت کی وسیع تر ارضیاتی-معاشی حکمتِ عملی کو متاثر کر سکتا ہے۔
Site Admin | January 13, 2026 9:37 PM
حکومت مخالف مظاہروں کے سلسلے میں کارروائی کے بعد ایران میں تقریباً دو ہزار افراد کے ہلاک ہونے کا اندیشہ ہے