وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت نے ثابت کردیا ہے کہ جمہوری ادارے اور جمہوری عمل، ملک کی جمہوریت کو وسعت، استحکام اور رفتار فراہم کرتے ہیں۔ آج نئی دلّی میں سمودھان سدن میں دولت مشترکہ ملکوں کے اسپیکرس اور پریزائڈنگ افسروں کی 28 ویں کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے گوناگونیت کو اپنی جمہوریت کی طاقت میں بدل دیا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارت کیلئے جمہوریت کا مطلب، قطار میں کھڑے آخری شخص تک سہولتوں کی فراہمی ہے اور حکومت بغیر کسی تفریق کے ہر فرد کی فلاح وبہبود کے جذبے کے ساتھ کام کررہی ہے۔ جناب مودی نے اُجاگر کیا کہ گزشتہ چند برسوں میں ملک میں تقریباً 25کروڑ لوگ غربت سے باہر آئے ہیں۔
وزیراعظم مودی نے مزید کہا کہ بھارت کیلئے عوام سب سے مقدم ہیں اور اُن کی آرزوؤں اور امنگوں کو پورا کرنے کو اولین ترجیح دی گئی ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ بھارت نے تکثیریت کو اپنی طاقت بنایا اور وہ دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی اہم معیشت کے طور پر اُبھرا ہے۔ جناب مودی نے کہا کہ آج بھارت میں UPI دنیا کاسب سے بڑا ڈیجیٹل ادائیگی کا نظام ہے۔
اِس موقع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا نے کہا کہ مصنوعی ذہانت AI اور سوشل میڈیا نے جمہوری اداروں کی کارکردگی اور صلاحیت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے۔ البتہ اُنہوں نے کہا کہ AI اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے غلط جانکاری، سائبر جرائم اور سماج کو تقسیم کرنے جیسے سنگین چیلنجز پیدا ہوئے ہیں۔
جناب برلا نے زور دے کر کہا کہ اِن چیلنجز پر سنجیدگی سے غور وفکر کرنا اور مناسب حل تلاش کرنا ہم سب کی اجتماعی ذمے داری ہے۔×