November 14, 2025 9:44 PM

printer

حکمراں قومی جمہوری اتحاد نے بہار اسمبلی انتخابات میں تاریخی جیت درج کی ہے۔ اس نے اب تک اعلان شدہ 219 سیٹوں میں سے 183 سیٹیں جیتی ہیںRJD کی قیادت والا مہاگٹھ بندھن ریاست کے سبھی حصوں میں بہت پیچھے ہے

بہار اسمبلی انتخابات میں حکمراں قومی جمہوری اتحاد NDA زبردست تاریخی جیت کی طرف آگے بڑھ رہا ہے۔ NDA کو183 سیٹیں ملی ہیں اور وہ 21 سیٹوں پر آگے ہے۔ RJD کی قیادت والا مہاگٹھ بندھن بہت پیچھے ہے اُس نے30 سیٹیں جیتی ہیں اور وہ 4 سیٹوں پر آگے ہے۔ دیگر نے پانچ سیٹیں جیتی ہیں اور ایک پر آگے چل رہے ہیں۔BJP کے امیدوار اور نائب وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری نے تارا پور سیٹ جیت لی ہے۔ بہار ریاست کے JDU کے صدر اُمیش سنگھ کشواہا کو مِہنار حلقے سے منتخب قرار دیا گیا ہے انھوں نے RJD کے اپنے قریبی حریف کو 30 ہزار ووٹوں سے شکست دی۔ سابق مرکزی وزیر اور BJPکے سینئر لیڈر رام کرپال یادو نے RJD کے اپنے قریبی حریف سے 20 ہزار ووٹوں کے فرق سے دانا پور کی سیٹ جیت لی ہے۔
مشہور بھوجپوری گلوکار میتھلی ٹھاکر نے BJP کے ٹکٹ پر پہلی بار الیکشن لڑا اور وہ علی نگر سیٹ سے جیت گئی ہیں، جبکہ BJP کے سینئر لیڈر منگل پانڈے نے سیوان کی سیٹ RJD کے اپنے قریبی حریف سے 9 ہزار ووٹوں کے فرق سے جیتی ہے۔
مہاگٹھ بندھن کے وزیر اعلیٰ کے عہدے کے امیدوار RJD کے تیجسوی پرساد یادو جو ابتدا میں پیچھے چل رہے تھے، آگے بڑھے اور راگھوپور سیٹ سے منتخب قرار دیئے گئے۔ انھوں نے BJP کے اپنے قریبی حریف ستیش کمار کو 17 ہزار 866 ووٹوں سے شکست دی۔ اُن کے بھائی جن شکتی جنتا دل کے تیج پرتاب یادو مہوا سے چنائو ہار گئے اور وہ RJD کے امیدوار سے بھی پیچھے تیسرے مقام پر آئے ہیں۔LJP کے سنجے کمار سنگھ نے 40 ہزار سے زیادہ ووٹوں کے فرق سے اپنی سیٹ جیتی ہے۔ مشہور بھوجپور گلوکار اور اداکار شتروگھن یادو عرف کھیساری لال یادو BJP کی امیدوار چھوٹی کماری سے پیچھے چل رہے ہیں۔ پرشانت کشور کی جن سوراج پارٹی کوئی سیٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے۔
نیشنل ڈیموکریٹک الائنس NDA نے 2025 کے بہار اسمبلی انتخابات میں ایک بار پھر 200 سے زیادہ سیٹیں حاصل کی ہیں۔ حکمراں اتحاد کے ساتھ یہ دوسری مرتبہ ہوا ہے کہ اُس نے 2010 کے اسمبلی انتخابات کے بعد 200 سے سیٹیں حاصل کی ہیں۔ 2010 میں اُس نے 206 سیٹیں جیتی تھیں۔
اِس چنائو میں BJP بہار میں واحد سب سے بڑی پارٹی کے طور پر ابھرتی ہے۔ پچھلے اسمبلی انتخابات میں راشٹریہ جنتا دل 74 سیٹوں کے ساتھ واحد سب سے بڑی پارٹی تھی، لیکن اِس مرتبہ اپوزیشن پارٹیوں نے اپنی توقعات کے مطابق اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ 2020 کے اسمبلی انتخابات میں BJP نے 19 اعشاریہ چار چھ فیصد ووٹوں کے ساتھ 74 سیٹیں جیتی تھیں جبکہ JDU کو پچھلے انتخابات میں 43 سیٹیں ملی تھیں اور اُس ووٹ فیصد 15 اعشاریہ تین نو تھا۔NDA کی اتحادی لوک جن شکتی پارٹی رام ولاس، جو پچھلے انتخابات میں علاحدہ ہوگئی تھی اور اُسے صرف ایک سیٹ پر کامیابی ملی تھی، اِس بار پارٹی نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ البتہ مہاگٹھ بندھن کی طرف سے کانگریس، جو پچھلے انتخابات میں 19 سیٹیں جیتی تھی اِس مرتبہ 10 سیٹیں بھی نہیں جیت پائی ہے۔ نئی پارٹی جن سوراج پارٹی اور جن شکتی جنتا دل بھی اپنا کھاتا کھولنے میں ناکام رہی ہیں۔

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔