جی ایس ٹی بچت اُتسو پچھلے مہینے کی 22 تاریخ سے شروع ہوا تھا جس کا اعلان وزیر اعظم نریندر مودی نے کیا تھا۔ یہ سماج کے سبھی طبقوں کیلئے فائدے مند ہے۔ آج ہم GST اصلاحات سے متعلق ایک رپورٹ پیش کر رہے ہیں کہ اِن سے جموں وکشمیر کی معیشت کو فروغ حاصل ہوگا۔
نئی GST اصلاحات سے، جموں وکشمیر کی دستکاری، زراعت، سیاحت اور خصوصی مصنوعات کے میدان میں، مسابقتی رجحان میں اضافہ ہوگا۔ یہ اصلاحات، جموں وکشمیر کے مختلف میدانوں میں بھی کی گئی ہیں جیسے صنعتی تنوع، سیاحت کا فروغ اور دیہی زندگی میں بہتری۔ دستکاری، جموں وکشمیر کی معیشت کی روح رہی ہے جس سے بڑے پیمانے پر روزگار بھی فراہم ہوتا رہا ہے۔ GST اصلاحات کے بعد اِس شعبے میں محض پانچ فیصد ٹیکس باقی رہ گیا ہے، جو اِس سے پہلے 12 فیصد تھا۔ اِس کے سبب پشمینہ شال اور قالین جیسی مشہور مصنوعات کی قیمتیں کم ہوگئی ہیں اور گھریلو، نیز بین الاقوامی مارکیٹوں میں مسابقتی رجحان پیدا ہوا ہے۔ بسوہلی پینٹنگ پر بھی، پہلے 12 فیصد ٹیکس تھا جسے اب پانچ فیصد کردیا گیا ہے۔سیاحت اور ہوٹلوں پر بھی 12 فیصد ٹیکس تھا جو سات ہزار 500 روپئے تک کے قیام کیلئے پانچ فیصد کردیا گیا ہے۔ ان سبھی اقدامات کی وجہ سے کاریگروں اور کسانوں کو مدد مل رہی ہے اور روزگار کے مزید موقعے پیدا ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ برآمدات کو فروغ حاصل ہو رہا ہے اور خطے کی مالامال ثقافت اور روایتوں کا تحفظ کرتے ہوئے لگاتار ترقی میں بھی مدد مل رہی ہے۔