January 5, 2026 9:40 PM

printer

جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اَٹل Dulloo نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں میں تیزی لانے میں سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق پلیٹ فارم، پرگَتی کے کایاپلٹ کرنے والے اثر پر آج روشنی ڈالی

جموں و کشمیر کے چیف سکریٹری اَٹل Dulloo نے مرکز کے زیرِ انتظام علاقے میں بڑے ترقیاتی پروجیکٹوں میں تیزی لانے میں سرگرم حکمرانی اور بروقت نفاذ سے متعلق پلیٹ فارم، پرگَتی کے کایاپلٹ کرنے والے اثر پر آج روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ پرگتی، طویل عرصے سے زیرِ التواء معاملوں اور بڑی پہل پر بروقت عمل آوری کو یقینی بنانے میں ایک طاقتور وسیلے کے طور پر ابھرا ہے۔ چیف سکریٹری نے پرگتی کی 50ویں میٹنگ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی سے تحریک پانے والی حکمرانی کے طریقۂ کار کی بدولت کئی ایسے پروجیکٹ کامیابی سے مکمل ہوئے ہیں، جو بین محکمہ جاتی کمیوں اور عملی تاخیر کے باعث دہائیوں سے تعطل کا شکار تھے۔
پرگتی طریقۂ کار کے تحت مرکز کے زیرِ انتظام علاقے اور مرکز کے درمیان تال میل کی بدولت پورے جموں و کشمیر میں عالمی درجے کا بنیادی ڈھانچہ تیزی سے تشکیل پارہا ہے۔ اودھم پور- سری نگر- بارہمولہ ریل لِنک، USBRL پروجیکٹ، سال 1995 میں شروع ہوا تھا اور 25 سال کے دوران اِس میں معمولی پیشرفت ہوئی تھی۔ تاہم بعد میں پرگتی کے تحت آجانے کے بعد سخت نگرانی کے ذریعے بین محکمہ جاتی تال میل اور بذاتِ خود وزیرِ اعظم کی براہِ راست مداخلت کی بدولت پروجیکٹ میں قابلِ ذکر پیشرفت ہوئی۔ کابینہ سکریٹری کی صدارت والے پرائم منسٹرس گروپ، PMG کے ذریعے 500 کروڑ روپے سے زیادہ کی تخمینہ لاگت والے سبھی پروجیکٹوں کی نگرانی کی گئی، جبکہ اِن میں سے انتہائی اہمیت کے حامل پروجیکٹوں کا وزیرِ اعظم نے پرگتی میٹنگوں کے ذریعے بذاتِ خود جائزہ لیا۔ اِن میں دلّی – امرتسر – کٹرہ ایکسپریس وے راہداری، ایمس اَوَنتی پورہ، Pakul Dul ہائیڈرو الیکٹرک پروجیکٹ، USOF کے تحت 4G موبائل کنکٹیویٹی اور توانائی اور کنیکٹیویٹی کے پروجیکٹس شامل ہیں، جو مرکز کے زیرِ انتظام علاقے کے مختلف حصوں میں پھیلے ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔