جموں و کشمیر میں پچھلے 24 گھنٹے سے جاری موسلا دھار بارش میں کم سے کم 10 لوگوں کی موت ہو گئی، جس سے پورے جموں ڈویژن میں سیلابی ایمرجنسی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ ماتا ویشنو دیوی یاترا معطل کر دی گئی ہے۔ یاترا کے سب سے اونچے مقام Trikuta پہاڑی کے راستے پر موسلا دھار بارش کی وجہ سے چٹّانیں کھسکنے سے 6 لوگوں کی موت ہو گئی اور 18 زخمی ہو گئے۔ خبر کے مطابق جموں خطّے کے کچھ مقامات پر بجلی فراہمی اور انٹرنیٹ خدمات میں رخنہ پڑا ہے۔ ایمرجنسی خدمات کو چھوڑ کر سبھی سرکاری دفاتر آج بند رہیں گے۔ Tavi، چناب، Neru اور کلنائی جیسی بڑی ندیوں کی سطح آب میں اضافہ ہو گیا ہے۔ محکمہئ موسمیات نے مزید بارش کی پیشگوئی کی ہے، جس سے تشویش اور بڑھ گئی ہے۔
جموں اور کشمیر کے اسکولی تعلیمی بورڈ نے دسویں اور گیارہویں جماعت کے آج ہونے والے امتحانات ملتوی کر دیے ہیں۔
پنجاب میں راوی، وِیاس اور ستلج ندیوں سے متصل ریاست کے کچھ حصوں میں سیلاب کی صورتحال سنگین ہوتی جا رہی ہے۔ متعدد اضلاع کے لیے الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر میں کٹرہ کے پاس ویشنو دیوی مندر جانے والے راستے پر تیز بارش کی وجہ سے بڑے پیمانے پر زمینی تودے کھسکنے کی وجہ سے کم سے کم 30 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ کل تیز بارش کی وجہ سے ویشنو دیوی مندر کے پاس زمینی تودے کھسکنے کا یہ حادثہ پیش آیا۔
پنجاب کے کئی علاقوں میں گزشتہ 48 گھنٹے سے وقفے وقفے سے بارش ہو رہی ہے۔ ہماچل پردیش اور جموں و کشمیر میں گزشتہ دو سے تین دن سے مسلسل ہو رہی بارش کی وجہ سے رنجیت ساگر باندھ اور پونگ باندھ پوری طرح سے بھر چکے ہیں۔
پٹھان کوٹ، گروداس پور فضلکا، فیروزپور، ہوشیار پور، کپورتھلا اور ترنگ تارن سمیت 7 اضلاع ہائی الرٹ پر ہیں۔ امرتسر کے لیے بھی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ریاست بھر میں کنٹرول روم قائم کیے گئے ہیں۔ اِن اضلاع کے نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات یا راحت کیمپوں میں جانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ متاثرہ علاقوں میں پھنسے لوگوں کو بچانے کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سبھی اسکولوں میں 30 اگست تک تعطیل کا اعلان کر دیا گیا ہے اور شہریوں سے ندی کے کناروں سے دور رہنے اور افواہوں پر توجہ نہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔