جموں وکشمیر اسمبلی میں ایک قرارداد پیش کی گئی ہے، جس میں پہلگام میں دہشت گردوں کے وحشیانہ حملے پر دُکھ اور غم وغصے کا اظہار کیا گیا ہے۔ اِس حملے میں 26 افراد مارے گئے تھے۔ مذکورہ قرارداد میں فرقے وارانہ ہم آہنگی میں خلل ڈالنے اور ترقی کی راہ میں رکاوٹ پیدا کرنے کے ناپاک عزائم کو شکست دینے کیلئے پختہ عزم کے ساتھ لڑنے کا عہد کیا گیاہے۔ آکاشوانی جموں کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ جموں وکشمیر کے نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے اسمبلی کے خصوصی اجلاس کے دوران یہ قرارداد پیش کی۔ اجلاس کے آغاز پر ارکان نے گزشتہ ہفتے کے سانحے میں ہلاک ہونے والوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کیلئے دو منٹ کی خاموشی اختیار کی۔
قانون ساز اسمبلی نے سبھی شہریوں کیلئے امن وسکون، ترقی اور خوشحالی کا ماحول پیدا کرنے کے اپنے پختہ عزم کا اعادہ کیا۔ نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے کہاکہ ایوان 22 اپریل کو پہلگام میں بے قصور عام شہریوں پر وحشیانہ اور غیرانسانی حملے پر دُکھ اور غم وغصے کا اظہار کرتا ہے اور اِس بزدلانہ حرکت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے جناب چودھری نے کہاکہ دہشت گردی کی اِس طرح کی حرکتیں کشمیریت اور ہمارے آئین کی اقدار، اتحاد، امن اور ہم آہنگی کے جذبے پر سیدھا حملہ ہے۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان حملے میں مارے گئے افراد اور اُن کے ارکانِ خاندان کے ساتھ مکمل یگانگت کا اظہار کرتا ہے۔ ایوان نے مارے گئے لوگوں کے تئیں گہری تعزیت کا اظہار کیا۔
ایوان نے Pony Ride آپریٹر سید عادل حسین شاہ کی عظیم قربانی کا بھی تذکرہ کیا، جنہوں نے دہشت گردوں کے حملے سے سیاحوں کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اپنی جان نچھاور کردی۔ قرارداد میں اِس سانحے کے بعد سیکورٹی سے متعلق کابینہ کمیٹی کی میٹنگ کے تناظر میں مرکزی سرکار کی جانب سے کئے گئے سفارتی اقدامات کیلئے اسمبلی کی تائید کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ قرارداد میں سبھی سیاسی پارٹیوں، مذہبی اور دیگر رہنماؤں، نوجوانوں کی تنظیموں، سول سوسائٹی گروپوں اور میڈیا گھرانوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ امن و سکون برقرار رکھیں اور تشدد اور نفاق پیدا کرنے والے بیانات کو مسترد کریں، نیز امن وسکون، اتحاد اور آئینی اقدار کو سربلند رکھنے کیلئے مل کر کام کریں۔ بعد میں جموں وکشمیر اسمبلی نے پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بارے میں پیش کی گئی قرارداد منظور کرلی ہے۔×