June 19, 2025 9:41 PM

printer

تین ارکان پر مشتمل عدالتی پینل کو دلّی ہائیکورٹ کے سابق جج یشونت ورما کو ہٹانے کا عمل شروع کرنے کیلئے کافی شواہد ملے ہیں

جسٹس یشونت ورما کی رہائش گاہ پر نقدی برآمد ہونے کے الزامات کی چھان بین کرنے کیلئے تشکیل دیئے گئے تین رکنی پینل نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ دلّی ہائی کورٹ کے سابق جج کی برخاستگی کا عمل شروع کرنے کیلئے خاطر خواہ شواہد موجود ہیں۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس Sheel Nagu، ہماچل پردیش ہائی کورٹ کے چیف جسٹس G S Sandha Walia اور کرناٹک ہائی کورٹ کی جج Anu Sivaram پر مشتمل کمیٹی نے جسٹس یشونت ورما کے ان دعووں کو مسترد کردیا ہے کہ یہ کہانی انھیں پھنسانے کیلئے تیار کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق نئی دلّی میں جسٹس ورما کی رہائش گاہ کے اسٹور روم میں نقدی برآمد ہوئی تھی اور ان کے دو گھریلو ملازموں نے اسٹور روم سے جلی ہوئی رقم کو ہٹانے میں اہم رول ادا کیا تھا۔ کمیٹی اس نتیجے پر پہنچی کہ نقدی ان کے اسٹور روم سے برآمد ہوئی تھی اور وہ اس کا حساب دینے سے قاصر پائے گئے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔