بہار میں ایک نئی سرکار کی تشکیل کے لیے NDA کی اتحادی پارٹیوں کی سیاسی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ نئی دلی اور پٹنہ میں، اِن پارٹیوں کے ارکان کے مابین تبادلہئ خیال اور بہت سی میٹنگوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ کابینہ کے ڈھانچے اور وزیروں کی کونسل میں مختلف اتحادی پارٹیوں کی نمائندگی پر بات چیت جاری ہے۔
حال ہی میں کرائے گئے اسمبلی انتخابات میں BJP، 89 سیٹوں پر جیت حاصل کرکے سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے، جبکہ چراغ پاسوان کی قیادت والی لوک جن شکتی پارٹی رام ولاس پاسوان کو 19 سیٹیں ملی ہیں۔ ہندوستانی عوامی مورچہ کو پانچ سیٹیں اور راشٹریہ لوک مورچہ کو چار سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔
پٹنہ میں، JDU قانون ساز پارٹی کے لیڈر چننے کیلئے آج میٹنگ ہوگی۔ امید ہے کہ JDU کے 85 نئے منتخبہ ارکان اسمبلی، نتیش کمار کو متفقہ طور پر پارٹی کے قانون ساز لیڈر کے طور پر منتخب کریں۔
امید ہے کہ BJP بھی NDA کی اِس میٹنگ کے بعد اپنا قانون ساز لیڈر چنے۔ NDA قانون ساز پارٹی کی میٹنگ کی بھی آج منعقد کیے جانے کی توقع ہے۔
NDAقانون ساز پارٹی کی طرف سے اُس کا لیڈر چنے جانے کے بعد ہی نئی سرکار کی تشکیل کا دعویٰ پیش کیا جائے گا۔ اِس سے پہلے موجودہ سرکار کی آخری کابینہ میٹنگ آج وزیراعلیٰ نتیش کمار کی قیادت میں منعقد ہوگی۔ اِس میٹنگ میں موجودہ کابینہ کو تحلیل کرنے کی سفارش کی جائے گی، تاکہ نئی سرکار کی تشکیل کا راستہ ہموار کیا جا سکے۔ اُس کے بعد وزیراعلیٰ نتیش کمار، گورنر کو اپنا استعفیٰ پیش کریں گے۔
اسی دوران نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب کی تیاریاں بھی شروع ہو گئی ہیں۔ یہ تقریب پٹنہ کے تاریخی گاندھی میدان میں منعقد ہوگی، جہاں گورنر عارف محمد خان نئے وزیراعلیٰ اور دیگر کابینہ ارکان کو حلف دلائیں گے۔ امید ہے کہ حلف برداری کی یہ تقریب 20 نومبر کو منعقد ہوگی۔
اسی دوران پٹنہ کی ضلع انتظامیہ نے آج گاندھی میدان عام لوگوں کیلئے 20 نومبر تک بند کردیا ہے۔