October 18, 2025 9:44 PM

printer

بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ کا کام، آج مکمل ہوگیا۔

بہار اسمبلی انتخابات کے پہلے مرحلے کیلئے کاغذاتِ نامزدگی کی جانچ کا کام، آج مکمل ہوگیا۔ اِس مرحلے کے تحت ریاست کے 18 اضلاع کے 121 اسمبلی حلقوں کیلئے 6 نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ پرچۂ نامزدگی واپس لینے کی تاریخ20 اکتوبر ہے۔ اِس دوران NDA کی حمایت یافتہ لوک جَن شکتی پارٹی کی امیدوار سِیما سنگھ کے پرچۂ نامزدگی، تکنیکی وجوہات کے سبب مسترد کر دیئے گئے۔ انہوں نے سارَن ضلعے کے Marhaura حلقے سے اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کیا تھا۔ اِس واقعے کے پیش نظر اب NDA، 242 سیٹوں پر انتخابات لڑے گی۔
بہار اسمبلی انتخابات کے دوسرے مرحلے کیلئے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کے عمل میں بھی تیزی آگئی ہے۔ آج مختلف سرکردہ امیدواروں نے اپنے نامزدگی کے پرچے بھرے۔
سابق نائب وزیر اعلیٰ تَرکشور پرساد نے کٹیہار حلقے سے بطور BJP امیدوار اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کیا۔ ریاستی وزیر زماں خان نے Kaimur سے بطور JDU امیدوار، جبکہ جیَنت راج نے امرپور سے اپنا پرچۂ نامزدگی داخل کیا۔ نوادہ کے Warisaliganj حلقے سے RJD کی امیدوار انیتا دیوی نے اپنے کاغذاتِ نامزدگی داخل کیے، جبکہ بھاگلپور ضلعے کے گوپال پور سے JDU کے باغی رہنما گوپال منڈل نے اپنا نامزدگی کا پرچہ بھرا۔ NDA اور عظیم اتحاد سمیت سیاسی پارٹیوں نے اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔ ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ BJP کی حکمرانی والی ریاستوں کے وزراء اعلیٰ، NDA امیدواروں کی حمایت میں ریلیوں میں شامل ہوئے۔
بہار اسمبلی انتخابات کیلئے سرکردہ سیاسی رہنماؤں نے NDA امیدواروں کی حمایت میں انتخابی مہم میں حصہ لیا۔ ہریانہ، تریپورہ، اڈیشہ اور گوا کے وزراء اعلیٰ نے عوامی میٹنگوں سے خطاب کیا۔ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ نائب سنگھ سینی نے کٹیہار اور تریوینی گنج میں انتخابی مہم کی اور بہار کے لوگوں پر ترقیاتی معاملات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ووٹ دینے پر زور دیا اور کہا کہ NDA بڑی اکثریت سے جیتے گی۔
اس دوران RJD، کانگریس اور بائیں بازو کی پارٹیوں نے بھی اپنی انتخابی مہم تیز کر دی ہے۔ کانگریس کے سینئر رہنما بھوپیش بگھیل نے کہا کہ اِس چناؤ میں NDA کے خلاف لوگوں کا غصہ عروج پر ہے۔ RJD کے لیڈر مرتیونجے تیواری نے مبینہ طور پر کہا کہ NDA میں قیادت کے معاملے پر اتفاقِ رائے نہیں ہے اور کچھ اتحادی پارٹیاں ایک اور مدتِ کار کیلئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کی حمایت نہیں کر رہی ہیں۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔