بھارت کا تھوک قیمتوں پر مبنی افراطِ زر اشاریہ، WPI سال بہ سال گراوٹ کی بنا پر اگست کے صفر اعشاریہ پانچ-دو فیصد سے گھٹ کر ستمبر کے مہینے میں صفر اعشاریہ ایک-تین فیصد ہوگیا ہے۔ کامرس اور صنعتوں کی وزارت کے مطابق مینوفیکچر کی گئی غذائی اشیاء، دیگر مینوفیکچرڈ اشیاء، غیر غذائی اجناس، نقل و حمل کے ذرائع اور ٹیکسٹائلز کی قیمتوں میں اضافہ، پچھلے مہینے افراطِ زر میں اضافے کی بنیادی وجوہات رہیں۔ WPI غذائی اشاریے پر مبنی افراطِ زر کی سالانہ شرح، منفی دو فیصد رہی۔ اس دوران بنیادی اشیاء کے شعبے میں تین اعشاریہ تین-دو فیصد اور ایندھن اور بجلی کے شعبے میں دو اعشاریہ پانچ-آٹھ فیصد کی تفریطِ زر درج کی گئی۔ دوسری جانب مینوفیکچرڈ اشیاء کی سال در سال بنیاد کی افراطِ زر میں دو اعشاریہ تین-تین فیصد کا اضافہ ہوا۔
Site Admin | October 14, 2025 9:20 PM
بھارت کا تھوک قیمتوں پر مبنی افراطِ زر اشاریہ، WPI سال بہ سال گراوٹ کی بنا پر اگست کے صفر اعشاریہ پانچ-دو فیصد سے گھٹ کر ستمبر کے مہینے میں صفر اعشاریہ ایک-تین فیصد ہوگیا ہے