جھارکھنڈ ہائی کورٹ نے ریاست میں میونسپل انتخابات منعقد کرانے میں ناکام رہنے پر ریاستی حکومت کے تئیں سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس آنندا سین نے توہین عدالت سے متعلق ایک عرضی پر سماعت کرتے ہوئے آج ریاست کے چیف سکریٹری کو اگلے جمعہ کے روز عدالت میں بذاتِ خود پیش ہونے کا سمن جاری کیا ہے۔ عدالت نے گذشتہ سال 4 جنوری کو حکم جاری کرتے ہوئے تین ہفتوں کے اندر مقامی شہری بلدیاتی اداروں کے انتخابات کا انعقاد کرانے کا حکم دیا تھا۔ جھارکھنڈ کے سبھی شہری بلدیاتی اداروں کی مدت اپریل 2023 میں ختم ہوچکی ہے۔
عدالت نے ریاستی حکومت کے رویّے پر نکتہ چینی کرتے ہوئے تبصرہ کیا کہ حکومت، کھلے عام قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کر رہی ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ ریاست میں آئینی مشینری ٹھپ ہوگئی ہے۔ رانچی میونسپل کارپوریشن کی سابق کونسلر روشنی Khalkho اِس بارے میں توہین عدالت سے متعلق عرضداشت داخل کی تھی۔ اپریل 2023 میں جھارکھنڈ کے سبھی مقامی شہری اداروں کی مدت کار ختم ہونے کے بعد انتخابات فوری طور پر متوقع تھے، تاہم ریاستی حکومت کی جانب سے میونسپل انتخابات سے پہلے OBC ریزرویشن کے فیصد کو حتمی شکل دینے کے فیصلے کی وجہ سے یہ عمل رُک گیا تھا۔