پاکستان کی اعانت والی دہشت گردی کا مزید پردہ فاش کرنے کیلئے بھارت نے تمام پارٹیوں پر مشتمل وفود کے ساتھ اپنی جارحانہ عالمی مہم شروع کر دی ہے۔ آپریشن سندور پر بھارت کے سفارتی رابطے کے تحت JDU ایم پی سنجے کمار جھا کی قیادت والا وفد، آج انڈونیشیا، ملیشیا، جنوبی کوریا، جاپان اور سنگاپور کیلئے روانہ ہوا۔
شیوسینا ایم پی شری کانت شندے کی قیادت والا وفد بھی متحدہ عرب امارات، لائبیریا، کانگو اور Sierra Leone کیلئے روانہ ہوا تاکہ ہر طرح کی دہشت گردی نمٹنے میں بھارت کے عہد کی تصدیق کیا جاسکے۔
وفد کی روانگی سے پہلے میڈیا سے بات کرتے ہوئے جناب سنجے جھا نے کہا کہ دہشت گردی، پاکستان کی سرکاری پالیسی کا ایک حصہ ہے اور وہ دنیا کو بتائیں گے کہ اسلام آباد، کس طرح سے دہشت گردی کی اعانت کر رہا ہے۔
ہمارے نامہ نگار نے خبر دی ہے کہ تمام پارٹیوں پر مشتمل سات وفود کی تشکیل کی گئی ہے، جو پاکستان کے ناپاک عزائم اور بھارت کی دہشت گردی مخالف کامیاب آپریشن کے بارے میں بین الاقوامی برادری کو بتائے گی۔
پہلگام میں بزدلانہ دہشت گردانہ حملے کے فوراً بعد بھارت نے پاکستان کو اُس کی سرحد پار دہشت گردی اور دہشت گردوں کو ٹھکانہ فراہم کرنے پر الگ تھلگ کرنے کیلئے عالمی رہنماؤں اور شراکت داروں سے رابطہ کیا۔ عالمی رہنماؤں نے بھارت کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور دہشت گردانہ حملے کی مذمت کی۔ آپریشن سندور کے تحت بھارت نے پاکستان اور پاک مقبوضہ کشمیر میں نہ صرف دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں پر حملہ کیا بلکہ اُس کے فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بناکر پاکستانی جارحیت کا بھی منہ توڑ جواب دیا۔ ٹھیک اسی وقت بھارت نے پاکستان کے ذریعے مقتول دہشت گردوں کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سُپرد خاک کرنے کا حوالہ دیتے ہوئے اسلام آباد کی سرکاری پالیسی کے دہشت گردی کی اعانت کو بھی بے نقاب کیا۔
سبھی پارٹیوں پر مشتمل وفود 32 ملکوں کا دورہ کرکے پاکستان کی اعانت والی دہشت گردی کے خلاف بھارت کے مستحکم موقف کو پیش کریں گے، جو پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔