بھارت نے اسلامی تعاون تنظیم OIC کونسل کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ میں دیئے گئے اپنے ملک کے حوالوں کو واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور انہیں غیر ضروری اور حقائق کے اعتبار سے غلط قرار دیا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ پاکستان، جس نے دہشت گردی کو سیاسی تدبیر بنا دیا ہے، کی جانب سے دیئے گئے اس طرح کے بیانات تنگ نظری پر مبنی سیاسی مفادات کے لیے OIC پلیٹ فارم کے لگاتار غلط استعمال کو ظاہر کرتے ہیں۔ اُس نے کہا ہے کہ OIC کی جانب سے پاکستان سے شروع ہونے والے دہشت گردی کے حقیقی اور ثبوت پر مبنی خطرے کا اعتراف کیے جانے میں بار بار ناکامی، دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں عالمی اتفاق رائے اور حقائق سے بے پروائی کو ظاہر کرتی ہے۔
بھارت نے مزید کہا ہے کہOIC کو جموں و کشمیر سمیت، جو بھارت کا ایک اٹوٹ اور خودمختار حصہ ہے، بھارت کے اندرونی معاملات پر تبصرہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ اُس نے کہا ہے کہ OIC کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی جانب سے اُس کے ایجنڈے کو ہائی جیک کر لینے اور سیاسی رنگ دینے کی اجازت دینے کے خطرے پر غور کریں۔ اُس نے مزید کہا کہ کسی اور دوسرا راستہ سے OIC کی اعتباریت اور معنویت کو ہی زک پہنچے گی۔
بھارت نے کہا کہ OIC کی میٹنگ میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے تبصرے، حکومت کی حمایت والی دہشت گردی، اقلیتوں کے ساتھ زیادتی، فرقوں پر مبنی تشدد اور حکمرانی میں ناکامی میں اپنے ریکارڈ سے بین الاقوامی توجہ کو دوسرا رخ دینے کی ایک کوشش ہے۔ بھارت نے بلااشتعال اور بلاجواز فوجی کارروائی کے پاکستان کے الزام کو بھی واضح طور پر مسترد کر دیا ہے اور اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
Site Admin | June 23, 2025 9:38 PM
بھارت نے پاکستان سے شروع ہونے والے دہشت گردی کے خطرے کو نظر انداز کرنے کے سلسلے میں اسلامی تعاون کی تنظیم OIC کی نکتہ چینی کی ہے۔ اس نے کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف لڑائی پر عالمی اتفاق رائے کے تئیں عدم احترام کا اظہار ہوتا ہے