June 26, 2025 3:01 PM

printer

بھارت نے شنگھائی تعاون تنظیم کے مشترکہ اعلامیے پر یہ کہتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کردیا کہ اِس میں پاکستان کی شہ والی دہشت گردی سے متعلق بھارت کی تشویش کو واضح طور پر شامل نہیں کیا گیا ہے۔

بھارت نے چین کے Qingdao میں شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے دفاع کی میٹنگ میں ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرنے سے انکار کردیا ہے۔ سرکاری ذرائع نے کہا ہے کہ بھارت، مشترکہ اعلامیے میں استعمال کی گئی زبان سے مطمئن نہیں ہے اور اُس میں سرحدپار دہشت گردانہ سرگرمیوں کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

اِس سے قبل وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے دہشت گردی، شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خلاف متحد عالمی کارروائی پر زور دیا ہے اور اِنہیں علاقائی امن و اعتماد کیلئے بڑے خطرات بتایا۔ آج چین کے Qingdao میں شنگھائی تعاون تنظیم کی وزرائے دفاع کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے جناب سنگھ نے کہا کہ امن و خوشحالی اور دہشت گردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے۔

پہلگام کے وحشیانہ حملے کا حوالہ دیتے ہوئے جس میں ایک نیپالی باشندے سمیت 26 شہری ہلاک ہوگئے تھے،  جناب سنگھ نے کہا کہ بھارت نے سرحد پار دہشت گردی کے ڈھانچے کو تہس نہس کرنے کیلئے آپریشن سندور کے تحت اپنا دفاع کرنے کے حق کا استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے یہ دکھا دیا کہ دہشت گردی کے مراکز اب محفوظ نہیں ہیں اور ملک اُنہیں نشانہ بنانے سے نہیں ہچکچائے گا۔

وزیر دفاع نے SCO ممالک پر دوہرے معیار کو مسترد کرنے اور دہشت گردی کو شہ دینے والوں کو جوابدہ قرار دینے پر زور دیا۔ جناب سنگھ نے کہا کہ کچھ ممالک سرحدپار دہشت گردی کو ایک پالیسی کے طور پر استعمال کرتے ہیں اور دہشت گردوں کو پناہ فراہم کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جو دہشت گردی کو شہ دیتے ہیں اور اُسے اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہیں اُنہیں کارروائی کا سامنا کرنا چاہیے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔