بھارت نے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے خود اپنے ریکارڈ اور سرحد پار سے جاری دہشت گردی سے دنیا کا دھیان ہٹانے کی پاکستان کی کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔

بھارت نے بچوں کے حقوق کی خلاف ورزی کے خود اپنے ریکارڈ اور سرحد پار سے جاری دہشت گردی سے دنیا کا دھیان ہٹانے کی پاکستان کی کوشش کی سخت مذمت کی ہے۔ بھارت کے پارلیمانی وفد کے نمائندے نشی کانت دوبے نے نیویارک میں اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس سے اپنے خطاب میں انسانی حقوق کی پامالیوں کی بنا پر پاکستان کی شدید نکتہ چینی کی۔ انھوں نے لڑائی والے خطوں میں بچوں کا تحفظ کرنے میں پاکستان کی ناکامی کو اجاگر کیا۔ جناب دوبے نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ بچوں اور مسلح تنازعے سے مطابق اقوام متحدہ کے ایجنڈے کی سب سے سنگین خلاف ورزی کرنے والے ملکوں میں سے ایک ہے۔ انھوں نے ظلم و زیادتیوں کی طویل فہرست پیش کی جس میں بچوں پر حملے، لڑکیوں کے اسکولوں کو تہس نہس کرنا اور افغانستان کی سرحد پر گولہ باری کرنا شامل ہے، جس کی وجہ سے کئی بچے ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔ انھوں نے اِس سال 22 اپریل کو پہلگام حملے کا ذکر کرتے ہوئے جموں و کشمیر میں دہشت گردی میں پاکستان کے رول پر توجہ مبذول کرائی، جس میں خواتین اور بچوں سمیت بے قصور عام شہری مارے گئے تھے۔ جناب نشی کانت دوبے نے اپنے شہریوں کی حفاظت اور انصاف کی خاطر ایک جائز اور متناسب جوابی کارروائی کے طور پر آپریشن سندور کو صحیح ٹھہرایا۔x

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔