بھارت نے ایجبسٹن، برمنگھم میں منعقدہ اینڈرسن۔تندولکر ٹرافی کے دوسرے میچ میں میزبان انگلینڈ کو 336 رنز سے شکست دے کر تاریخی فتح حاصل کی ہے اور پانچ میچوں کی سیریز کو 1-1 سے برابر کردیا ہے۔ یہ بھارت کی اس میدان پر پہلی ٹیسٹ جیت ہے جس سے 58 سالہ ناکامی کا سلسلہ ختم ہوا۔ اگرچہ پانچویں دن کا آغاز بارش کے باعث 100 منٹ کی تاخیر سے ہوا لیکن بھارتی گیند بازوں نے باقی سات وکٹیں حاصل کرلیں۔
آکاش دیپ نے میچ میں 10 وکٹیں حاصل کرکے بھارت کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 1986 میں چیتن شرما کے بعد یہ کارنامہ انجام دینے والے دوسرے بھارتی گیند باز بنے۔ انھوں نے پہلی اننگز میں 4 اور دوسری اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کیں۔ انھیں محمد سراج کی طرف سے بھی بہترین تعاون ملا جس نے عمدہ کارکردگی دکھاتے ہوئے مجموعی طور پر 7 وکٹیں لیں۔ پہلی اننگز میں 6 اور دوسری میں 1۔
اس سے قبل، چوتھے دن کپتان شُبھمن گِل نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 269 رنز پہلی اننگز میں اور 161 رنز دوسری اننگز میں بناکر کل 430 رنز کے ساتھ بھارت کو 608 رنز کے ناقابل تسخیر ہدف تک پہنچا دیا۔
گل کو ان کے مجموعی 430 رن کے ساتھ انھیں میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا جو کہ کسی بھی ٹیسٹ میچ میں کسی بلے باز کی جانب سے دوسرا سب سے بڑا اسکور ہے جو گراہم گوچ کے بھارت کے خلاف 1990 میں لارڈز میں بنائے گئے 456 رنز کے بعد سب سے بڑا اسکور ہے۔
بھارت نے اپنی دوسری اننگز میں 6 وکٹ کے نقصان پر 427 رن بنائے جبکہ انگلینڈ کی پوری ٹیم 271 رنز پر ہی آؤٹ ہوگئی۔ اب دونوں ٹیموں کے درمیان تیسرا ٹیسٹ 10جولائی کو لارڈز میں کھیلا جائے گا۔