بھارت نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں پاکستان کے ناپاک ایجنڈے کو مسترد کردیا ہے اور اسلام آباد پر الزام لگایا ہے کہ وہ سرکار کی زیر سرپرستی جاری سرحد پار کی دہشت گردی اور خود انسانی حقوق کی اپنی خلاف ورزیوں سے توجہ ہٹانے کی کوشش کررہا ہے۔ اقوام متحدہ میں بھارت کے مستقل نمائندے Ambassador P Harish نے سخت الفاظ پر مشتمل ایک بیان میں پاکستان کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ کونسل میں بچوں اور مسلح تنازعہ سے متعلق ایجنڈے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اِس پلیٹ فارم کا بیجا استعمال کررہا ہے۔ کونسل میں بچوں اور مسلح تنازعوں کے موضوع پر کھلی بحث کے دوران بھارت کے نمائندے نے کہا کہ پاکستان اِس ایجنڈے کی خلاف ورزی کرنے والا ایک بڑا ملک ہے۔
جنابP ہریش نے کہا کہ خود پاکستان کے اَندر بچوں کے حقوق کی لگاتار خلاف ورزیاں ہورہی ہیں۔ افغانستان میں فوجی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پاکستانی فوج کی طرف سے فضائی کارروائی اور گولہ باری کے نتیجے میں بچوں کی اموات ہوئی ہیں۔
انھوں نے جموں وکشمیر میں پہلگام کے 22 اپریل کے دہشت گردانہ حملے کا ذکر کیا اور کہا کہ پاکستانیوں یا پاکستان کی تربیت یافتہ دہشت گردوں نے 26 بھارتی سیاحوں کو ہلاک کیا تھا۔