October 3, 2025 9:51 PM

printer

بھارت نے آج کہا کہ پاکستان کو، پاکستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے

بھارت نے آج کہا کہ پاکستان کو، پاکستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کیلئے جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہئے۔ نئی دلّی میں نامہ نگاروں کو جانکاری فراہم کرنے کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے پاکستان کے زیر قبضہ جموں وکشمیر کے کئی علاقوں میں ہونے والے احتجاج اور وہاں بے قصور شہریوں پر پاکستانی فورسز کی بربریت کو اُجاگر کیا۔

S/B Randhir-POJK

انہوں نے کہا کہ نئی دلّی کا ماننا ہے کہ یہ سب پاکستان کے جابرانہ رویّے اور اُن علاقوں کے قدرتی وسائل کی منظم لوٹ مار کا فطری نتیجہ ہے۔ یہ قدرتی وسائل بدستور اُس کے جبری اور غیر قانونی قبضے میں ہیں۔ جناب جیسوال نے بنگلہ دیش کے داخلہ مشیر، جہانگیر عالم چودھری کے ان دعوؤں کو بھی سختی کے ساتھ مسترد کردیا کہ  بنگلہ دیش میں حالیہ بدامنی کے واقعات بھارت سمیت بیرونی اثرات کی وجہ سے پیش آئے۔ انہوں نے اِن دعوؤں کو جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد قرار دیا۔ جناب جیسوال نے کہا کہ بنگلہ دیش کی عبوری حکومت، جو ملک میں امن وامان قائم رکھنے میں ناکام ہے، ہمیشہ دوسروں پر الزام تھوپنے کی کوشش کرتی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ افغانستان کے وزیر خارجہ عامر خاں متقی 9 سے 16 اکتوبر بھارت کے دورے پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، افغانستان کی عبوری حکومت کے ساتھ بات چیت کررہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بھارت نے حالیہ زلزلے کے بعد ایران کی بندرگاہ چاہ بہار کے راستے افغانستان کے Kunar صوبے میں امدادی سامان پہنچایا۔ روس کے بارے میں جناب جیسوال نے کہا کہ آج بھارت اور روس کے درمیان اسٹریٹجک ساجھیداری قائم ہونے کے 25 سال مکمل ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت اور روس کے درمیان خصوصی اور بااعتماد اسٹریٹجک شراکت داری ہے۔ نئی دلّی اِن تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور ہر شعبے میں توسیع دینے کا خواہاں ہے، جن میں تجارت، معیشت، سرمایہ کاری، دفاع اور سائنس وٹیکنالوجی شامل ہیں۔×

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔