بھارت نے ترقی پذیر ملکوں کو قابلِ تجدید توانائی کی صلاحیت بڑھانے میں مدد کیلئے بین الاقوامی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے، تاکہ ترقیاتی اہداف پر کوئی سمجھوتہ نہ ہو۔ یہ بات نئی اور قابلِ تجدید توانائی کے وزیر پرہلاد جوشی نے کَل متحدہ عرب امارات کے شہر ابو ظہبی میں منعقدہ 16 ویں IRENA اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
وزیر موصوف نے کہا کہ عالمی سطح پر توانائی کی منتقلی کیلئے بے مثال سرمایہ کاری اور تعاون درکار ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ صرف بھارت کو ہی 2030 تک تقریباً 300 ارب امریکی ڈالر کی ضرورت ہوگی، جس سے قابلِ تجدید توانائی کی پیداوار، توانائی ذخیرہ، گرین ہائیڈروجن، بجلی کے گرڈز اور مینوفیکچرنگ کے شعبوں میں بڑے مواقع پیدا ہوں گے۔
جناب جوشی نے کہا کہ بھارت اپنے تجربات، اداروں اور تکنیکی مہارت کو دیگر رکن ملکوں کے ساتھ مشترک کرنے اور سبھی کے ساتھ قریبی تعاون کرنے کیلئے تیار ہے۔ وزیر موصوف نے ماحولیات کیلئے سازگار توانائی کے فروغ کیلئے حکومت کی مختلف اسکیموں کے بارے میں بھی آگاہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پی ایم سوریہ گھر مفت بجلی یوجنا کے تحت، 2 سال سے بھی کم عرصے میں تقریباً 25 لاکھ گھراوں کو چھت پر شمسی تنصیبات کا فائدہ پہنچایا جاچکا ہے، جبکہ مارچ 2027 تک 1 کروڑ کنبوں کو شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ جناب جوشی نے کہا کہ پی ایم کُسُم اسکیم کے تحت تقریباً 21 لاکھ 70 ہزار کسانوں کو ڈیزل پمپ کی جگہ سولر پمپ فراہم کرنے اور زرعی فیڈرز کو شمسی بنانے کے ذریعے فائدہ پہنچایا گیا ہے۔×