وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ بھارت نیوکلیائی بلیک میل میں نہیں آئے گا۔ آپریشن سندور کے بعد قوم سے خطاب کرتے ہوئے، اپنے پیغام میں، پاکستان کو ایک سخت اور واضح پیغام دیتے ہوئے، وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی اور تجارت اور دہشت گردی اور بات چیت ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔ وزیر اعظم نے بھارت کی سکیورٹی کے نظریے کے تین اہم ستونوں کا تذکرہ کیا۔
وزیر اعظم مودی نے آپریشن سندور کی کامیابی کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بھارت کے پختہ عزم کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے بھارت کی صلاحیتوں کو دیکھا ہے اور یہ صاف ہے کہ دہشت گردوں کو بخشا نہیں جائے گا۔
وزیرِ اعظم نے کہا کہ آپریشن سِندور نے دہشت گردوں کے گروپوں کو واضح پیغام دیا ہے کہ بھارت اور اُس کے شہریوں پر کسی بھی طرح کے حملے سے پوری طاقت کے ساتھ نمٹا جائے گا۔
جناب مودی نے کہا کہ بھارت، دہشت گردی اور پاکستان مقبوضہ کشمیر PoK کے علاوہ، پاکستان کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت نہیں کرے گا۔ انہوں نے دہشت گردی کی حمایت کرنے پر پاکستانی حکومت اور فوج کی تنقید کی اور خبردار کیا کہ اس طرح کی کارروائیاں اُن کی پستی کا سبب ہوسکتی ہیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آپریشن سندور ابھی ختم نہیں ہوا ہے بلکہ اِسے عارضی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت، آنے والے دنوں میں پاکستان کے ہرقدم کا جائزہ لیتا رہے گا تاکہ اِس بات کو یقینی بنایا جاسکے کہ اُس نے جو کچھ بھی وعدے کیے ہیں، اُس کے اقدامات بھی اِس کے ساتھ ہم آہنگ ہوں۔ جناب مودی نے کہا کہ آپریشن سندور شروع ہونے کے تین دن کے اندر پاکستان کو بڑی تباہی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے بارے میں اُس نے سوچا بھی نہیں تھا۔
جناب مودی نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ کس طرح آپریشن سندور کے دوران پوری دنیا نے پاکستان کے باعثِ تشویش ہونے کی حقیقت کا مشاہدہ کیا۔
پاکستانی فوج کے سینئر افسران نے، مارے گئے دہشت گردوں کے جنازوں میں کھلے طور پر شرکت کی، جس سے سرکار کی حمایت یافتہ دہشت گردی میں پاکستان کے ملوث ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔
وزیر اعظم نے زور دے کر کہا کہ ہر طرح کی دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں اتحاد، بھارت کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ جناب مودی نے یہ بات دوہرائی کہ اگرچہ یہ دور جنگ کا نہیں، اِس کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کا بھی نہیں ہے۔x