June 16, 2025 9:50 PM

printer

بھارت اور قبرص نے دہشت گردی اور انتہا پسندی کی سبھی قسموں اور مظاہر میں اس کی مذمت کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور قبرص کے صدر نے دفاع، سمندری سلامتی تجارت اور سرمایہ کاری جیسے اہم شعبوں میں تعاون کو بڑھانے سے اتفاق کیا ہے

بھارت اور قبرص نے دہشت گردی اور انتہاپسندی کی سبھی قسموں اور مظاہر میں اُس کی انتہائی سخت مذمت کی ہے اور ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے اپنے مشترکہ عزم کی توثیق کی ہے، جو امن اور استحکام کے قیام کو اجاگر کرتی ہے۔ دونوں ملکوں نے تمام ملکوں سے زور دے کر یہ بھی کہا ہے کہ وہ دوسرے ملکوں کی خود مختاری کا احترام کریں اور دہشت گردی کو رقومات فراہم کرنے کے نیٹ ورکس کو ختم کرنے ، محفوظ پناہ گاہوں کو جڑ سے ختم کرنے ، دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور دہشت گردی کے قصور واروں کو تیزی کے ساتھ کیفرِ کردار تک پہنچانے پر زور دیا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی اور قبرص کے صدر Nikos Christodoulides کے درمیان Nicosia میں آج وفد کی سطح کی بات چیت کے بعد جاری ایک مشترکہ اعلانیے میں دونوں ملکوں نے سرحد پار کی دہشت گردی سے لڑنے کیلئے ایک جامع ، تعاون پر مبنی اور پائیدار اندازِ نظر اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قبرص نے سرحد پار کی دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی میں اُس کے ساتھ یکجہتی اور مکمل حمایت کا اظہار کیا۔ دونوں لیڈروں نے پہلگام میں حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں شہریوں کی بہیمانہ ہلاکت کی سخت مذمت کی اور زور دے کر کہا کہ حملوں میں ذمے دار افراد کو سزا ملنی چاہیئے۔
اعلانیے میں کہا گیا کہ دونوں لیڈروں نے اپنی متعلقہ دفاعی صنعتوں کے درمیان شراکت داری سمیت دفاع اور سلامتی میں تعاون کو مزید بڑھانے سے اتفاق کیا ، جس میں سائبر سکیورٹی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز پر خصوصی توجہ مرکوز کی جائے گی۔ دونوں لیڈروں نے تعاون کو وسعت دینے سے متعلق تبادلۂ خیال بھی کیا تاکہ سمندری سرحد کے نظام کو شامل کیا جاسکے۔ قبرص اور بھارت کے درمیان بڑھتی ہوئی کلیدی تکمیلیت کا اعتراف کرتے ہوئے، دونوں لیڈروں نے بڑھی ہوئی تجارت، سرمایہ کاری اور سائنس ، اختراعات اور تحقیق کے شعبے میں شراکت داری کے ذریعے اقتصادی تعلقات کو وسعت عطا کرنے کے اپنے عزم کا اظہار کیا۔
صدارتی محل میں قبرص کے صدر Nikos کے ساتھ میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعظم نریندر مودی نے اِس بات کا ذکر کیا کہ قبرص کا ویژن 2035 اور بھارت کے وِکست بھارت 2047 میں کئی باتیں مشترک ہیں اور ایک لائحہ عمل طے کیا جانا چاہیئے تاکہ اگلے پانچ برسوں میں شراکت داری کے مستقبل کو شکل و صورت عطا کی جاسکے۔
وزیر اعظم نے سرحد پار کی دہشت گردی کے خلاف بھارت کی لڑائی میں قبرص کی حمایت کیلئے اُس کا شکریہ بھی ادا کیا اور اعلان کیا دونوں ملکوں کے درمیان اطلاعات سے بروقت ایک دوسرے کو واقف کرانے کا نظام وضع کیا جائے گا۔
وفد کی سطح کے مذاکرات کے دوران دونوں لیڈروں بھارت – قبرص تعلقات کے تمام شعبوں کا احاطہ کرتے ہوئے وسیع تر تبادلۂ خیال کیا۔ اِس سے قبل جناب مودی نے صدر Nikos Christodoulides کے ساتھ باہمی میٹنگ کی ، جس کے دوران قبرص کے صدر نے انہیں جمہوریہ قبرص کے اعلیٰ ترین شہری اعزاز Grand Cross of the Order of Makarios III سے نوازا ۔
وزیر اعظم نریندر مودی کا قبرص کے دورے کی کامیاب تکمیل نے نہ صرف باہمی تعلقات کو استحکام عطا کیا ہے بلکہ کلیدی تعاون میں ایک نئے باب کا آغاز بھی کیا ہے۔ قبرص کے صدر Nikos Christodoulides کے ساتھ وسیع تر مذاکرات میں دونوں لیڈروں نے بھارت-قبرص تعلقات کے تمام شعبوں کا جائزہ لیا۔ دونوں لیڈروں نے قبرص کے وژن 2035 کو بھارت کے وکست بھارت 2047 سے مرکوز کرنے پر زور دیا اور موجودہ شراکت داری کو مزید آگے لے جانے کے سلسلے میں ایک پانچ سالہ لائحۂ عمل وضع کرنے سے اتفاق کیا۔
بھارت نے پہلگام میں وحشت ناک دہشت گردانہ حملے کی قبرص کی سخت مذمت اور دہشت گردی کے خلاف عالمی لڑائی میں اُس کی مکمل حمایت کی ستائش کی۔
دونوں ملکوں نے دہشت گردی کا مقابلہ کرنے، منشیات اور اسلحے کی اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے بروقت اطلاعات سے ایک دوسرے کو واقف کرانے کے نظام کو قائم کرنے کے منصوبے کا اعلان بھی کیا۔ دونوں لیڈروں نے علاقائی امن اور خوشحالی کی پیشرفت میں بھارت-مشرقِ وسطیٰ- یوروپ اقتصادی راہداری کی کایاپلٹ کردینے والی صلاحیت کو بھی اجاگر کیا۔
اِس دورے کی ایک اہم بات Nicosia کے تاریخی مرکز کا مشترکہ سفر بھی ہے جس میں اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی لائن پر پیدل سفر بھی شامل ہے۔صدر Christodoulides نے وزیر اعظم نریندر مودی کو شمالی قبرص کی وہ پہاڑیاں دکھائیں جو 1974 سے ترکی کے قبضے میں ہیں اور اِس طرح انھوں نے جزیرے کی ارضیاتی وسیاسی حساس صورتحال کو بھی اجاگر کیا۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کے مطابق قبرص کے معاملے کے پُرامن حل کیلئے بھارت کی مستقل حمایت کی توثیق کی۔ وزیراعظم مودی نے اصلاح شدہ اقوام متحدہ سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کیلئے بھارت کی کوششوں کے تئیں قبرص کی حمایت کا خیر مقدم بھی کیا۔
اقتصادی محاذ پر اِس دورے کے بڑے نتائج برآمد ہوئے۔ قبرص، بھارت کے ساتھ UPI ڈیجیٹل پیمنٹ پلیٹ فارم کے ساتھ خود کو مربوط کرنے کیلئے تیار ہے۔ قبرص کے اسٹاک ایکسچینج نے Gift City میں NSE بین الاقوامی ایکسچینج کے ساتھ ایک مفاہمت نامے پر دستخط کئے ہیں اور قبرص میں قائم BAO کیپٹل پارٹنرس نے بھارت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے 100 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا ہے۔
دونوں ملکوں نے اِس سال کے آخر تک بھارت یوروپی یونین آزاد تجارتی معاہدے کو قطعی شکل دینے کی ضرورت کو اجاگر کیا جو اس کے دیرپا اقتصادی اور کلیدی اثرات کا اعتراف ہے۔
ایک ثقافتی جہت کو بھی شامل کیا گیا اور یونیورسٹی آف نیکوسیا میں انڈین اسٹڈیز چیئر کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ ساتھ ہی تعلیمی اور افرادی قوت کے تبادلے کو فروغ دینے کے سلسلے میں ایک اہم پروگرام کا بھی اعلان کیا گیا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے اس دورے نے بھارت-قبرص تعلقات میں ایک تازہ رفتار پیدا کردی ہے جس کے سبب ایک مضبوط اور پیش بینی پر مبنی کلیدی شراکت داری کی وسیع تر بنیاد قائم ہوئی ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔