January 12, 2026 9:43 PM

printer

بھارت اور جرمنی نے دفاع، تجارت، ٹیکنالوجی، صاف توانائی اور موبیلٹی کے شعبوں میں اسٹریٹیجک ساجھیداری کو وسعت دینے کے مقصد سے کئی معاہدے کئے ہیں۔

بھارت اور جرمنی نے گجرات کے گاندھی نگر میں وزیراعظم نریندر مودی اور جرمنی کے چانسلر Friedrich Merz کے درمیان اعلیٰ سطح پر وفود کی بات چیت کے تناظر میں اپنی کلیدی ساجھے داری کو مزید مستحکم بنایا ہے۔ جرمنی کے چانسلر Merz کا بھارت کا یہ دورہ ایسے وقت ہوا ہے کہ جب دوطرفہ کلیدی ساجھے داری کو 25 سال مکمل  ہوئے ہیں۔ اِس موقع پر دفاع، ٹیکنالوجی اور ماحولیات کیلئے سازگار توانائی سمیت مختلف شعبوں میں 19 مفاہمت ناموں کا تبادلہ کیا گیا اور آٹھ اہم اعلان کئے گئے۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور جرمنی کے چانسلر Merz نے آئندہ ہونے والی یوروپی یونین-بھارت سربراہ میٹنگ کے اہم نتیجے کے طور پر بھارت اور یوروپی یونین کے درمیان آزاد تجارت کا سمجھوتہ طے پانے کے سلسلے میں اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔جرمنی کے چانسلر نے اِس بات کا عندیہ دیا کہ یوروپی یونین اور بھارت اِس مہینے کے آخر تک آزاد تجارت کا سمجھوتہ طے کرسکتے ہیں۔ اُن کے اِس دورے میں کئی مشترکہ اعلامیوں پر دستخط کئے گئے۔ دونوں ملکوں نے ہنرمند افراد کے ایک دوسرے کے ملک میں جانے اور ہنرمندی کے شعبے میں اشتراک پر خصوصی توجہ دی ہے۔ جرمنی کے چانسلر کے اِس دورے کی ایک خاص بات جرمنی سے گزرنے والے اُن بھارتی شہریوں کیلئے بغیر ویزا کی راہداری سہولت کا اعلان ہے جن کے پاس بھارتی پاسپورٹ ہیں۔
چانسلر Merz کے ساتھ میٹنگ کے بعد مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، وزیرِ اعظم مودی نے کہا کہ دونوں ملکوں نے مشترکہ ترقی اور مشترکہ پیداوار پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے، دفاعی صنعتی اشتراک کو مستحکم کرنے کے اعلامیے پر دستخط کئے ہیں۔ جناب مودی نے زور دیا کہ دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف لڑائی پر متفق ہیں۔ وزیرِ اعظم نے دہشت گردی کو انسانیت کے خلاف سنگین خطرہ قرار دیا۔ 
وزیرِ اعظم نے کہا کہ بات چیت کے دوران ترقی، مائیگریشن، موبیلٹی اور ہنرمندی کے فروغ پر زور دیا گیا۔ وزیرِ اعظم مودی اور چانسلر Merz نے یوکرین کی صورتحال اور اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل میں فوری اصلاحات جیسے عالمی موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔ چانسلر Merz نے ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال کا ذکر کیا اور پُرامن مظاہرین کی سلامتی کی اپیل کی۔ دونوں رہنماؤں نے محفوظ سپلائی چین کی تعمیر اور مستحکم بین الاقوامی Order کے اپنے مضبوط عزم کو دوہرایا۔ وزیرِ اعظم نے کہا کہ بھارت اور جرمنی کے درمیان دو طرفہ تجارت اپنی بلند ترین سطح 50 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ جناب مودی نے مزید کہا کہ2 ہزار سے زیادہ جرمن کمپنیاں طویل عرصے سے بھارت میں موجود ہیں۔ بعد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے، خارجہ سکریٹری وِکرم مِسری نے کہا کہ جرمن چانسلر کا بھارت دورہ، دفاع، تجارت، موبیلٹی، ہنرمندی، گرین توانائی اور عوام سے عوام کے روابط جیسے شعبوں میں اشتراک پر توجہ مرکوز کرنے میں، ایک اہم پیشرفت ہے۔
دونوں رہنماؤں نے تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے معاشی محاذ پر CEO فورَم کے قیام کا خیرمقدم کیا۔ جرمنی نے ماحولیاتی پائیداری کیلئے گرین اور پائیدار ترقیاتی ساجھیداری کے تحت ایک ارب 24 کروڑ یورو کی تازہ فنڈنگ کا اعلان کیا، جس سے PM ای-بس سیوا اور گرین ہائیڈروجن جیسے پروجیکٹوں کی مدد کی جائے گی۔ دونوں رہنماؤں نے گرین ٹیکنالوجی، جدت طرازی اور ماحولیاتی کارروائی میں اشتراک کو بڑھانے کیلئے بھارت- جرمنی سینٹر آف ایکسیلینس کے قیام کے فیصلے کا بھی اعلان کیا۔ دونوں رہنماؤں نے بھارت کے گرین ہائیڈروجن کے قومی مشن کے تحت Uniper گلوبل کموڈیٹیز کو AM گرین کے ذریعے گرین امونیا کی سپلائی کے سب سے بڑے خرید و فروخت کے معاہدے پر دستخط کئے جانے کا بھی خیرمقدم کیا۔ 
ثقافتی محاذ پر جرمن میری ٹائم میوزیم کے تعاون سے لوتھَل کے نیشنل میری ٹائم ہیرٹیج کمپلیکس کی ترقی کے معاہدے پر بھی دستخط کئے گئے۔ اِس کے علاوہ، دونوں ملکوں کے درمیان ادارہ جاتی تعلقات کو وسعت دینے کے مقصد سے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جامع نقشۂ راہ کا بھی تبادلہ کیا گیا۔ دورے کا اختتام کھیلوں اور نوجوانوں پر زور دینے کے ساتھ ہوا، جس میں یوتھ ہاکی کی ترقی کیلئے ایک نیا معاہدہ شامل ہے۔ 

 

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔