January 17, 2026 10:10 AM

printer

بھارت اور جاپان نے دونوں ملکوں کے درمیان 18ویں دفاعی مذاکرات کے دوران مصنوعی ذہانت AI اور اہم معدنیات کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے نئے اقدامات کئے ہیں

بھارت اور جاپان نے دونوں ملکوں کے درمیان 18ویں دفاعی مذاکرات کے دوران مصنوعی ذہانت AI اور اہم معدنیات کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے نئے اقدامات کئے ہیں۔ کَل نئی دِلی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور جاپان کے اُن کے ہم منصب Toshimitsu Motegi نے قومی راجدانی میں منعقدہ اِن مذاکرات میں شرکت کی۔ جناب جیسوال نے کہا کہ اِس میٹنگ کے دوران دونوں رہنماؤں نے ایک نئے AI ڈائیلاگ کا آغاز کیا اور اہم معدنیات سے متعلق ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ کمیاب معدنیات کے میدان میں تعاون کو آگے بڑھایا جاسکے۔

اُنہوں نے یہ بھی کہاکہ بھارت اور جاپان، معاشی یقین دہانی کے میدان میں سرکاری و نجی تعاون میں اضافے کیلئے، پرائیویٹ شعبے کے مذاکرات کا انعقاد کرے گا۔

ترجمان نے بتایاکہ دن کے شروع میں جاپان کے وزیرخارجہ نے، وزیراعظم سے خیرسگالی کے طور پر ملاقات کی۔ وہ بھارت کے تین روزہ دورے پر ہیں۔

اِسی دوران 18ویں بھارت-جاپان دفاعی مذاکرات میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر نے کہا کہ بھارت اور جاپان میں، عالمی نظام کو شکل دینے اور بین الاقوامی معیشت کو درپیش خطرات کو ختم کرنے کی زبردست صلاحیت موجود ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ بھارت اور جاپان کے درمیان خصوصی دفاعی اور عالمی شراکت داری میں لگاتار اضافہ ہورہا ہے۔

نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ بھارت، ایران میں جاری صورتحال پر قریبی نظر رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ تقریباً 9 ہزار بھارتی شہری، جن میں زیادہ تر طلبا ہیں، فی الحال ایران میں رہ رہے ہیں۔

جناب جیسوال نے کہاکہ حالیہ دنوں میں، ایران کی صورتحال پر غور کرتے ہوئے وزارت نے کچھ ہدایتیں جاری کی ہیں، جن میں بھارتی افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ ایران کا سفر کرنے سے گریز کریں اور جو لوگ مغربی ایشیائی ملکوں میں ہیں، اُنہیں واپس آنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

چاہ بہار بندرگاہ کے بارے میں جناب جیسوال نے کہا کہ پچھلے سال اکتوبر میں امریکہ کے محکمہ خزانہ نے ایک خط جاری کیا تھا، جس میں بندشوں کو کچھ شرطوں کے ساتھ ہٹانے کے بارے میں رہنمائی کا خاکہ پیش کیا تھا۔ اِس پیشکش کی مدت اِس سال 26 اپریل تک ہے۔ اُنہوں نے کہاکہ بھارت، اِس سلسلے میں کوئی بندوبست کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ سرگرم ہے۔

اِسی دوران بہت سے بھارتی شہری، خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران کَل رات ایران سے نئی دِلی پہنچے ہیں۔ نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے ایک بھارتی شہری نے، ایران سے واپس آنے میں، مدد اور تعاون کرنے پر حکومت کا شکریہ ادا کیا۔