May 16, 2025 2:38 PM

printer

بھارتی مسلح افواج نے آپریشن سِندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے قبضے والے جموں و کشمیر کے علاقے میں،  جس انداز سے دہشت گردوں کے لانچ Pads اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اُس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔

بھارتی مسلح افواج نے آپریشن سِندور کے تحت پاکستان اور پاکستان کے قبضے والے جموں و کشمیر کے علاقے میں،  جس انداز سے دہشت گردوں کے لانچ Pads اور فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، اُس نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔ 100 سے زیادہ دہشت گردوں کی ہلاکت اور پاکستان کے ٹکراؤ کو ختم کیے جانے سے ملک کے جدید طرز کے فضائی دفاعی نظام Akashteer کا چرچہ ہو رہا ہے۔ پوری طرح AI پر مبنی دفاعی نظام Akashteer نے کامیابی کے ساتھ بروقت اپنے ہدف کو بیچ میں ہی مار گرایا۔ اس کی عمدہ کارکردگی زبردست طاقت میں نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر کیے گئے جنگی مقابلے میں ہے۔

بھارت نے، پاکستان میں مختلف فوجی مقامات کے کافی اندر نپے تلے انداز میں، 8 فضائی ٹھکانوں سمیت اِن 13 نشانوں پر کس طرح وار کئے اور پاکستان کس طرح اِس کا دفاع کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ اِن سوالوں کی وجہ سے دنیا کے فوجی ماہرین حیران ہیں۔ اس کا جواب ’آکاش تیر‘ میں چھپا ہے، جو ملک کا اگلے دور کا فضائی دفاعی نظام ہے۔ اِس مہینے کی 9 اور 10 تاریخ کی رات کو جب پاکستان نے بھارتی فوج اور سویلین نشانوں پر سب سے زیادہ جارحانہ اور جان لیوا حملے کئے تو اُس کا سامنا بھیانک ہتھیار ’آکاش تیر‘ سے ہوا۔ اِس جدید ترین ہتھیار نے فضائی خطروں کو کامیابی کے ساتھ ناکام کردیا جن میں ڈرون، میزائل، مائیکرو UAVs بھی شامل ہیں، جو بھارتی فضائی علاقے میں داخل نہ ہوسکے۔

آکاش تیر بھارت کا پہلا ایسا ہتھیار ہے جسے  AI-war-cloud کی بنیاد پر ملک ہی میں تیار کیا گیا جو فضا میں ہی لڑائی کرنے کی، بروقت تصویر تیار کرتا ہے، دشمن کا خودبخود پتہ لگاتا ہے، اُس کا پیچھا کرتا ہے اور دشمن کے طیاروں، ڈرونز اور میزائلوں کو تباہ کردیتا ہے۔ آکاش تیر کے مقابلے پاکستان کا فضائی دفاعی نظام، HQ-9 اور HQ-16 پلیٹ فارمز پر مبنی ہے جو بھارت کے ہتھیاروں کا پتہ لگانے میں پوری طرح ناکام رہا ہے، جس کی وجہ سے اُسے زبردست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ آکاش تیر کی وجہ سے بھارت کے دفاعی نظام میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوا ہے۔

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔