January 13, 2026 2:30 PM

printer

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اُپیندر دویویدی نے آپریشن سندور کو فوج کی تینوں شاخوں کے مابین مطابقت کی بہترین مثال قرار دیا

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپیندر دیویدی نے کہا ہے کہ آپریشن سندور، فوج کی تینوں شاخوں کے درمیان مکمل تال میل کی بہترین مثال تھی، جس میں فوج کو کارروائی کرنے کی مکمل آزادی دی گئی تھی۔ آج نئی دلّی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، جنرل دیویدی نے کہا کہ پہلگام دہشت گردانہ حملے کے بعد اعلیٰ ترین سطح پر فیصلہ کن کارروائی کرنے کا واضح فیصلہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن سندور کے دوران دور دراز کے علاقوں میں حملہ کرکے، دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرکے اور طویل عرصے سے دیئے جانے والے نیوکلیائی ہتھیاروں سے متعلق بیانات کو بے اثر کردیا گیا۔ فوج کے سربراہ نے کہا کہ مسلح افواج نے 9 ٹھکانوں میں سے 7 کو کامیابی کے ساتھ تباہ کردیا۔

جنرل دیویدی نے کہا کہ 10 مئی کے بعد سے مغربی محاذ پر اور جموں و کشمیر میں صورتحال حساس لیکن پوری طرح قابو میں ہے۔ انہوں نے اِس بات کو اجاگر کیا کہ گذشتہ برس 31 دہشت گردوں کا صفایا کیا گیا، جن میں سے 65 فیصد پاکستان نژاد تھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شمالی محاذ پر صورتحال مستحکم ہے لیکن مستقل چوکسی کی ضرورت ہے۔