بھارت چین کو پیچھے چھوڑتے ہوئے دنیا کا سب سے بڑا چاول کی پیداوار کرنے والا ملک بن گیا ہے۔ یہ بات کل نئی دلّی میں مرکزی وزیر زراعت شیو راج سنگھ چوہان نے کہی۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی چاول کی پیداوار 150 اعشاریہ 18 ملین ٹن تک پہنچ گئی ہے، جبکہ چین کی پیداوار 145 اعشاریہ 28 ملین ٹن ہے۔ جناب چوہان نے کہا کہ بھارت اب بیرونِ ملک منڈیوں میں بھی چاول سپلائی کر رہا ہے۔
وزیر زراعت نے قومی راجدھانی میں منعقدہ ایک تقریب میں زرعی تحقیق کی بھارتی کونسل ICAR کی جانب سے تیار کردہ 25 زرعی فصلوں کی184 عمدہ اقسام کا اجراء کیا۔
اِن 184 اقسام میں، اناج کی 122، دالوں کی 6، تلہن کی 13، چارے کی فصلوں کی 11، گنے کی 6 اور کپاس کی 24 اقسام نیز جوٹ اور تمباکو کی ایک-ایک قسم شامل ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جناب چوہان نے کہا کہ ملک نے زیادہ پیداوار دینے والے بیجوں کی تیاری میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ انہوں نے حکام کو ہدایت دی کہ اِن نئی اقسام کو جلد از جلد کسانوں تک پہنچایا جائے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اعلیٰ معیار کے بیج ہر کسان کے کھیت تک پہنچنے چاہئیں۔ جناب چوہان نے کہا کہ زیادہ پیداوار دینے والے اور ہر موسم کو برداشت کرنے والے بیجوں کی ترقی کی بدولت ملک ایک نئے زرعی انقلاب کے دور میں داخل ہو چکا ہے۔×