بنگلہ دیش میں فضائیہ کے طیارے کے حادثے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر 22 ہوگئی ہے۔

بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کے Ultra علاقے میں پیر کی شام تربیتی طیارے کو پیش آئے حادثے میں 22 افراد ہلاک ہوگئے۔ ان میں کئی اسکولی بچے بھی شامل ہیں۔ حادثے میں 169 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ طیارہ پرواز بھرنے کے کچھ ہی منٹ بعد ڈھاکہMilestone  اسکول اور کالج کے احاطے میں جاگرا۔ وزیراعظم نریندر مودی نے اس حادثے میں ہوئے جانی نقصان خصوصاً چھوٹے طلبا کی موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے ہر ممکن مدد اور معاونت فراہم کرنے کی پیشکش بھی کی ہے۔

پیش ہے ایک رپورٹ۔                                   V-C Adesh

بنگلہ دیش فضائیہ کا F-7 تربیتی جنگی جہاز ڈھاکہ شہر کے کُرمی ٹولا میں واقع بیر اُتّم کھانڈکَر ایئربیس سے اڑان بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد حادثے کا شکار ہوگیا۔ اِس ہولناک حادثے نے دنیا کے سب سے گنجان آبادی والے شہروں میں سے ایک ڈھاکہ میں ایئربیس کے کام کرنے پر فوری سوال اٹھائے ہیں۔ ڈھاکہ کے زیادہ تر شہریوں کے مطابق اِس واقعے نے طویل عرصے سے پائے جانے والے خدشات کو دوبارہ جنم دیا ہے۔ دہائیوں کے جہاز اڑانے کے تجربے کے حامل بیمان بنگلہ دیش کے سابق کپتان عبد اللہ فاروق نے کمرشیل اور شہری زون سے قریب فوجی طیاروں کے آپریشن پر اپنے خدشات کا عوامی طور پر اظہار کیا ہے۔

ڈھاکہ سے نَوَل سَنگ پرمار کی رپورٹ کے ساتھ خبرنامے کے لیے میں…..

سب سے زیادہ پڑھا گیا۔
سب دیکھیں arrow-right

کوئی پوسٹ نہیں ملی۔