بنگلہ دیش میں ایک اور ہندو نوجوان کی موت نے مذہبی اقلیتوں کے خلاف تشدد سے متعلق خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ 19 سالہ جوئے موہاپاترا کی موت، جمعہ کے روز سلہٹ کے ایک اسپتال میں ہوگئی، جہاں اسے مبینہ طور پر زہر کھانے کے بعد داخل کرایا گیا تھا۔ یہ واقعہ سُنام گنج کے Derai Upazila میں موبائل فون کی بقایا قسطوں پر ہونے والے تنازعے کے بعد پیش آیا۔
جوئے کے اہلِ خانہ نے الزام لگایا ہے کہ برہان پور گاؤں کے دکاندار امیر الاسلام نے موبائل فون کی 500 ٹکہ کی تاخیر شدہ قسطوں پر اسے مارا پیٹا، ذلیل کیا اور اشتعال دلایا۔ پولیس نے کہا ہے کہ اِس معاملے کی تحقیقات کی جارہی ہے۔