بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف زیادتیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایک ہندو تاجر کو گولی مارکر ہلاک کردیا گیا جبکہ ایک ہندو خاتون کی مبینہ طور پر اجتماعی آبروریزی کی گئی۔

بنگلہ دیش میں اقلیتوں کے خلاف زیادتیوں کا سلسلہ  جاری ہے۔ کَل شام Jessore کے Monirampur  اُپ ضلعے میں نامعلوم حملہ آوروں نے ایک ہندو تاجر کو گولی مارکر ہلاک کردیا، جس سے لوگوں میں گھبراہٹ پھیل گئی اور امن و قانون کی صورتحال کے تعلق سے پھر سے تشویش بڑھ گئی ہے جبکہ وہاں انتخابات بھی ہونے والے ہیں۔

45 سالہ تاجر کا نام رانا کانتی بیراگی عرف رانا پرتاپ بتایا گیا ہے جو کیشو پور اُپ ضلعے کے Arua گاؤں کے باشندے تھے۔ Kapalia بازار میں اُن کی برف بنانے کی فیکٹری ہے جہاں کَل شام پونے چھ بجے کے آس پاس یہ واقعہ پیش آیا۔ رانا پرتاپ نے Narail کے اخبار “BD Khobor” کے قائم مقام مدیر کے طور پر بھی کام  کیا تھا۔

ایک اور واقعے میں ایک ہندو خاتون نے الزام لگایا ہے کہ Jhenaidah ضلعے کے کالی گنج اُپ ضلعے میں اُس کی اجتماعی آبرو ریزی کی گئی اور ایک درخت سے باندھ کر وحشیانہ طریقے سے اذیت دی گئی۔ پولیس کے مطابق مذکورہ بیوہ خاتون نے دعویٰ کیا ہے کہ اِس زیادتی کا ویڈیو بناکر اِسے سوشل میڈیا پر شیئر کیا گیا۔

پولیس نے بتایا ہے کہ مذکورہ خاتون نے کَل کالی گنج تھانے میں جو کیس درج کرایا ہے اُس میں دو خواتین سمیت چار افراد کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔ ایک ملزم حسن کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ بقیہ مشتبہ افراد کو پکڑنے کیلئے کوششیں     جاری ہیں۔x