برطانیہ نے غزہ میں بگڑتے ہوئے حالات کے تناظر میں اسرائیل کے ساتھ تجارت کے معاملے پر بات چیت معطل کردی ہے، اسرائیل کے سفیر کو طلب کیا ہے اور مغربی کنارے میں آباد کئے جانے والے لوگوں پر نئی پابندیاں عائد کردی ہیں۔ برطانیہ کے وزیر خارجہ David Lammy نے کہا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی فوجی کارروائی اخلاقی طور پر غیر منصفانہ ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ امداد کو روکے جانے سے وہاں ایک بڑا انسانی بحران پیدا ہوگیا ہے۔ جناب Lammy نے غزہ کا صفایا کرنے اور فلسطینیوں کو دیگر ملکوں میں منتقل کرنے کے بارے میں اسرائیل کے ایک وزیر کے بیان کی مذمت بھی کی ہے اور اس بیان کو انتہائی خطرناک قرار دیا ہے۔
ادھر اسرائیل نے برطانیہ کی نکتہ چینی کو یہ کہتے ہوئے مسترد کردیا ہے کہ باہری دباؤ کی وجہ سے اُس کی سیکورٹی پالیسیوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ یوروپی یونین کے وزراء خارجہ نے برسلز میں اپنی میٹنگ میں اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی سمجھوتے پر نظر ثانی کرنے سے اتفاق کیا ہے۔ یوروپی یونین، اسرائیل کی سب سے بڑی تجارتی ساجھیدار ہے، کیونکہ 32 فیصد سامان اور اشیاء کی تجارت اُس کے ساتھ ہوتی ہے۔