لوک سبھا نے آج غیر ضروری اور فرسودہ قوانین کو ختم کرنے اور ترمیم کرنے سے متعلق بل 2025 کو پاس کر دیا ہے۔ اِس بل میں مخصوص قوانین کو ختم کرنے اور کچھ میں ترمیم کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ اِس بل کا مقصد 71 قوانین کو کالعدم قرار دینا ہے، جن میں 1886 کا بھارتی ٹرامس وَے قانون، 1976 کا Levy Sugar Price Equalisation Fund قانون اور 1988 کا بھارت پیٹرولیم کارپوریشن لمیٹیڈ قانون شامل ہیں۔ یہ بل، 1897 کے عوامی شقوں سے متعلق قانون، 1908 کے سول پروسیجر کوڈ، 1925 کے بھارتی وراثت قانون اور 2005 کے آفاتِ ناگہانی سے متعلق قانون میں ترمیم کرتا ہے۔
بل پیش کرتے ہوئے قانون اور انصاف کے وزیر ارجن رام میگھوال نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں قانونی نظام میں اصلاحات کیے جا رہے ہیں تاکہ عام لوگوں کی قوانین تک رسائی کو مزید آسان بنایا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ 2014 سے سرکار، اصلاح، کار کردگی اور تبدیلی کے مَنتر پر کام کر رہی ہے۔ وزیر موصوف نے کہا کہ مئی 2014 سے ایک ہزار 577 غیر ضروری اور فرسودہ قوانین ختم کیے جاچکے ہیں۔ جناب میگھوال نے کہا کہ یہ اصلاحات، ملک کو نوآبادیاتی ذہنیت سے آزاد کرنے کے اقدامات ہیں۔
’’سب کا بیمہ، سب کی رکشا‘‘ بل 2025 کو لوک سبھا میں غور و خوض اور پاس کرنے کیلئے پیش کیا گیا۔ یہ بل، انشورینس سے متعلق قوانین سمیت 1938 کے انشورینس قانون، 1956 کے لائف انشورینس کارپوریشن قانون اور 1999 کے انشورینس کے نظم و ضبط سے متعلق اتھارٹی ایکٹ میں ترمیم کرے گا۔
ایوان میں بل پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن نے کہا کہ یہ بل، بہتر نظم و ضبط، نفاذ میں آسانی، انشورینس ایجنٹوں کی طرف سے بلا رکاوٹ خدمات کی فراہمی اور غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا۔
راجیہ سبھا میں انتخابی اصلاحات پر بحث آج مکمل ہوگئی۔ NCP کے پرفل پٹیل نے کہا کہ انتخابات میں EVMs کا استعمال پہلے بھی ہوتا رہا ہے اور ایسا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اِس کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن نے اِس بات کو ثابت کرنے کیلئے ایک کھلا چیلنج دیا تھا کہ کس طرح EVM کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کیا جاسکتا ہے، لیکن کوئی سامنے نہیں آیا۔TMC کے Derek O’Brien نے کہا کہ وزیر داخلہ نے انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد پیش کرتے ہوئے Detect, Delete اور Deport یعنی پتہ کرنے، ووٹر فہرست سے نام ہٹانے اور ملک سے باہر کرنے کی بات کہی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ SIR کا مقصد تقسیم کرنا، بھٹکانا اور شکست دینا ہے۔ ایوان کے لیڈر جے پی نڈا نے کہا کہ یہ انتخابی کمیشن کا کام ہے کہ وہ وقفے وقفے سے انتخابی فہرستوں کو ٹھیک کرے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی کمیشن اور سپریم کورٹ جیسے آئینی ادارے، ملک کی جمہوریت کے ستون ہیں۔
Site Admin | December 16, 2025 9:31 PM
ایوان زیریں نے فرسودہ قوانین کو ختم کرنے کی خاطر منسوخی اور ترمیم سے متعلق بل منظور کرلیا ہے