اسرائیل اور ایران کے درمیان آج مسلسل آٹھویں دن ایک دوسرے پر میزائل حملے جاری رہے۔ اُدھر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ جاری بگڑتی ہوئی صورتحال کو کم کرنے کیلئے جنیوا میں ملاقات کررہے ہیں۔اِسی دوران، ایران کے ایک میزائل حملے سے جنوبی اسرائیل کے Beersheba علاقے میں نقصان ہوا۔ اس حملے میں کم سے کم پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فضائیہ نے کہا ہے کہ اُس نے مغربی اور وسطی ایران میں فوجی بنیادی ڈھانچے پر حملہ کیا ہے۔
جاری لڑائی مغربی ایشیاء کے توانائی کے شعبے کیلئے تشویش کا باعث ہو رہی ہے۔ قطر میں توانائی کی بڑی کمپنیوں کے ساتھ ہنگامی میٹنگیں ہو رہی ہیں۔ یہ میٹنگیں جنوبی Pars، شمالی Dome پر اسرائیلی حملوں کے بعد کی جارہی ہیں جو قدرتی گیس کا سب سے بڑا ذخیرہ ہے جسے ایران اور قطر مشترکہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ صنعتی واقف کاروں کا کہنا ہے کہ اس حملے نے علاقائی توانائی کے تحفظ کیلئے سنگین خطرہ کھڑا کردیا ہے، کیونکہ عالمی تیل کی منڈیاں خلیج کی فراہمی میں مزید کوئی خلل برداشت نہیں کرسکتی۔ بین الاقوامی ردِّعمل غیرواضح ہے۔ امریکہ نے خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا ہے اور اِسے ایک احتیاطی قدم قرار دیا ہے۔ اسی دوران، روس نے ایک سخت وارننگ جاری کی ہے۔ کریملن نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل نے، امریکی حمایت کے ساتھ، ایران کے سپریم لیڈر پر حملہ کیا تو وہ انتہائی سخت جواب دے گا۔اسی دوران، ایران میں بڑے پیمانے پر احتجاج جاری ہیں۔ ہزاروں افراد تہران اور دیگر شہروں میں جمع ہیں اور اسرائیل کے خلاف اپنے غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔
Site Admin | June 20, 2025 9:44 PM
ایران کے وزیر خارجہ، جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے اپنے ہم منصبوں کے ساتھ، جنیوا میں بات چیت کررہے ہیں جبکہ اسرائیل کے ساتھ لڑائی آٹھویں دن میں داخل ہوگئی ہے