ایران نے حکومت مخالف مظاہروں کے 13 ویں دن میں داخل ہونے کے ساتھ ہی حکومت نے تقریباً ملک گیر انٹرنیٹ پابندی نافذ کردی ہے۔ یہ مظاہرے اب ایران کے سبھی 31 صوبوں میں پھیل گئے ہیں۔
انٹرنیٹ کی نگرانی کرنے والے ادارے NetBlocks کے مطابق، 8 جنوری کی شام سے 9 جنوری کی صبح تک ملک بھر میں انٹرنیٹ کنکٹی وٹی میں شدید کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ موبائل فون سروسز بھی بری طرح متاثر ہوئیں۔
انسانی حقوق کے اداروں کا کہنا ہے کہ 28 دسمبر سے شروع ہونے والی بے چینی کے بعد اب تک کم از کم 45 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں، جبکہ 2 ہزار سے زیادہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔