ایران گزشتہ تین برسوں میں بدامنی کے بدترین دور سے گزررہا ہے، جہاں ملک گیر احتجاج دسویں دن میں داخل ہوچکے ہیں۔ بڑے شہروں میں سکیورٹی فورسز کی موجودگی مزید سخت کردی گئی ہے، اُدھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر تشدد میں اضافہ ہوا تو وہ مظاہرین کا ساتھ دے سکتے ہیں۔ یہ احتجاج ایرانی کرنسی ریال کی شدید گراوٹ اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے سبب شروع ہوئے، جو تہران کے Grand بازار سے نکل کر کم سے کم 31 صوبوں کے 78 شہروں میں 220 سے زیادہ مقامات تک پھیل چکے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کم سے کم 16 سے 20 افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور سینکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
مظاہرین حکومت مخالف نعرے لگارہے ہیں اور ریاستی اتھارٹی کی علامتوں کو نشانہ بنارہے ہیں، جس کے باعث یہ احتجاج 2022-23 میں Mahsa Amini کی موت کے بعد ہونے والے مظاہروں کے بعد بدامنی کا سب سے وسیع دور قرار دیا جارہا ہے۔×