ایران کی جانب سے تقریباً پورے ملک میں انٹرنیٹ بند کرنے، فون کالز کے منقطع ہونے اور پروازوں کی منسوخی کے ایک دن بعد، ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے الزام عائد کیا ہے کہ مظاہرین، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اشارے پر کام کررہے ہیں۔ آج ایک ٹیلی ویژن خطاب میں خامنہ ای نے کہا کہ مظاہرین، سرکاری املاک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کے متحد عوام تمام دشمنوں کو شکست دیں گے۔ انہوں نے امریکی صدر پر زور دیا کہ وہ صرف اپنے ملک کے مسائل پر توجہ دیں۔اس دوران، تہران کے میئر علی رضا Zakani نے کہا کہ مظاہرین نے اقتصادی اور سرکاری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا ہے، جن میں 26 بینک، دو اسپتال اور 25 مساجد شامل ہیں۔ انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق 28 دسمبر سے شروع ہونے والی بدامنی کے بعد اب تک کم سے کم 45 مظاہرین ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ 2 ہزار 200 سے زیادہ لوگوں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ دوسری طرف، ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ 950 پولیس آفیسرز اور نیم فوجی دستے Basij فورس کے 60 اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔اس دوران، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران میں، پُرامن مظاہرین کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، اظہارِ رائے کی آزادی اور انجمن سازی کے حق پر زور دیا۔
Site Admin | January 9, 2026 9:53 PM
ایران میں مظاہرین نے ملک بھر میں عوامی اِملاک پر حملے کئے ہیں۔ پروازیں منسوخ کردی گئی ہیں اور انٹرنیٹ بند کردیا گیا ہے۔ خامنہ ای نے بدامنی کیلئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو موردِ الزام ٹھہرایا ہے