ایران میں، ملک گیر مظاہروں کے خلاف کی جانے والی کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 538 ہو گئی ہے۔

ایران میں، ملک گیر مظاہروں پر، جو کارروائی کی جا رہی ہے، اُس میں مرنے والوں کی تعداد 538 تک جا پہنچی ہے۔ امریکہ میں قائم انسانی حقوق سے متعلق سرگرمیوں کی خبر ایجنسی نے بتایا کہ جو لوگ ہلاک ہوئے ہیں، اُن میں 490 مظاہرین اور 48 حفاظتی دستوں کے اہلکار شامل ہیں۔ اُس نے خبردار کیا ہے کہ مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی کہا ہے کہ ابھی تک 10 ہزار 600 سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

ایران میں، انٹرنیٹ اور فون لائن منقطع کر دی گئی ہے۔ لہٰذا بیرونِ ملک مظاہروں کی شدّت کا اندازہ لگانا اور بھی مشکل ہو گیا ہے۔ ایران کی حکومت نے اِن مظاہروں میں ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد نہیں بتائی ہے۔

اسی دوران ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قلی باف نے خبردار کیا ہے کہ اگر امریکہ اِن مظاہروں کے سلسلے میں اسلامی جمہوریہ پر حملہ کرتا ہے، تو امریکی فوج اور اسرائیل بالکل جائز نشانے ہوں گے۔ جیسا کہ امریکہ نے اِن حملوں کی دھمکی دی ہوئی ہے۔×