اوپیک پلس نے اصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اہم رکن ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی و جغرافیائی کشیدگی اور وینزویلا میں تازہ ترین غیر یقینی کی صورتحال کے باوجود تیل کی پیداوار کو مستحکم رکھا جائے گا۔ اوپیک میں شامل آٹھ ممالک سعودی عرب، روس، متحدہ عرب امارات، قزاخستان، کویت، عراق، الجزائر اور عمان، مشترکہ طور پر دنیا کے تقریباً نصف تیل کی پیداوار کرتے ہیں۔ ان ملکوں نے نومبر میں جنوری، فروری اور مارچ کے لیے پیداوار میں مزید اضافہ نہ کرنے سے اتفاق کرنے سے پہلے، اپریل سے دسمبر 2025 کے دوران پیداوار کے اہداف میں تقریباً 29 لاکھ بیرل یومیہ کا اضافہ کیا تھا، جو عالمی مانگ کے تقریباً تین فیصد کے برابر ہے۔
یہ پیش رفت، امریکہ کے ذریعے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرنے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اِس بیان کے بعد ہوئی ہے کہ واشنگٹن ملک کا کنٹرول سنبھالے گا جب تک وینزویلا میں نئی انتظامیہ اقتدار نہیں سنبھال لیتی۔ تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ یہ کیسے عمل میں آئے گا۔گزشتہ ماہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان یمن کے تنازعے پر کشیدگی میں اُس وقت اضافہ ہوا، جب متحدہ عرب امارات سے وابستہ ایک گروہ نے سعودی حمایت والی حکومت سے ایک علاقہ چھین لیا۔ اس واقعے کو دونوں سابق اتحادیوں کے درمیان کئی دہائیوں میں سب سے بڑی نااتفاقی قرار دیا گیا ہے۔ اوپیک ماضی میں مارکیٹ کے استحکام کو ترجیح دے کر اندرونی اختلافات پر قابو پاتا رہا ہے، لیکن اب اسے متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ روس کی برآمدات یوکرین کی جنگ سے منسلک امریکی پابندیوں کے باعث دباؤ میں ہیں، جبکہ ایران احتجاجی مظاہروں اور امریکی مداخلت کی دھمکیوں کا سامنا کر رہا ہے۔ جغرافیائی اور سیاسی غیر یقینی کی صورتحال اس وقت مزید گہری ہو گئی جب امریکہ نے وینزویلا کے صدر نکولس Maduro کو گرفتار کیا۔
Site Admin | January 4, 2026 9:37 PM
اوپیک پلس نے اصولی طور پر اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ اہم رکن ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی و جغرافیائی کشیدگی اور وینزویلا میں تازہ ترین غیر یقینی کی صورتحال کے باوجود تیل کی پیداوار کو مستحکم رکھا جائے گا