January 17, 2026 9:54 AM

printer

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ نے، الفلاح یونیورسٹی کے چانسلر اور دیگر کے خلاف، کالے دھن کو جائز بنانے کے الزامات کے تحت فردِ جرم داخل کی ہے۔ اُس نے 140کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کو ضبط کیا ہے، جن کا تعلق اِس گروپ سے ہے۔

انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ ED نے الفلاح یونیورسٹی کے منیجنگ ٹرسٹی اور چانسلر جواد احمد صدیقی اور دیگر کے خلاف ایک شکایت درج کی ہے۔ یہ شکایت کالے دھن کو جائز بنانے کے قانون کی روک تھام PMLA-2002 کے تحت درج کی گئی ہے۔

ایجنسی کی یہ تفتیش دِلی پولیس کی طرف سے درج کرائی گئی FIRs کی بنیاد پر کی جارہی ہے۔ یہ FIRs پچھلے سال دِلی میں لال قلعے کے نزدیک ایک کار بم دھماکے کے بعد درج کرائی گئی تھیں۔

ED نے بتایا کہ مبینہ جرائم سے ہونے والی آمدنی اور اِسے جائز بنانے کے سلسلے میں ملزم کے خلاف یہ شکایت، بااختیار PMLA عدالت میں داخل کی گئی ہے۔ اِس آمدنی کا تعلق الفلاح چیری ٹیبل ٹرسٹ، الفلاح یونیورسٹی اور اِس سے منسلک اداروں سے ہے۔

ED نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اُس نے تقریباً 140کروڑ روپے مالیت کے اثاثوں کو عارضی طور پر ضبط کیا ہے۔ اِن اثاثوں کا تعلق ہریانہ میں قائم گروپ سے ہے۔