امور داخلہ کی وزارت نے کہا ہے کہ مرکزی سرکار سونم وانگ چُک کے مطالبے کے سلسلے میں لیہہ اور کرگِل جمہوری اتحاد کے ساتھ سرگرمی سے رابطہ قائم کیے ہوئے ہے۔ اُن کا یہ مطالبہ چھٹے شیڈول اور لداخ کو ریاست کا درجہ دینے سے متعلق ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کے ساتھ ساتھ ذیلی کمیٹی کے باضابطہ وسیلوں کے توسط سے کئی میٹنگیں ہوئی ہیں۔ اِس کے علاوہ لیڈروں کے ساتھ کئی غیر رسمی میٹنگوں کا بھی اہتمام کیا گیا۔ وزارت نے کہا ہے کہ اِس طریقہئ کار کے ذریعے مذاکرات کے عمل کے خوش آئند نتیجے سامنے آئے ہیں۔ اِس طرح لداخ کے درج فہرست قبیلوں کے لیے ریزرویشن 45 فیصد سے بڑھا کر 84 فیصد کیا گیا ہے۔
اِس کے علاوہ کونسلوں میں خواتین کے لیے ایک تہائی ریزرویشن بھی فراہم کیا گیا ہے اور Bhoti اور Purgi کو سرکاری زبان قرار دیا گیا ہے۔ وزارت نے کہا ہے کہ اِس عمل کے ساتھ ایک ہزار 800 عہدوں پر بھرتی کا کام بھی شروع کیا گیا ہے۔
امور داخلہ کی وزارت کے مطابق لداخ کے رہنماؤں کے ساتھ آج اور کَل کُچھ میٹنگیں ہونے والی ہیں، جبکہ اعلیٰ اختیاراتی کمیٹی کی اگلی میٹنگ اگلے مہینے کی 6 تاریخ کو ہونا ہے۔ وزارت نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پُرانے اور اشتعال انگیز ویڈیو Circulate نہ کریں۔
اِدھر چھٹے شیڈول اور لداخ کے لیے ریاست کے درجے کے مطالبے کے معاملے پر پُرتشدد مظاہروں کے بعد لیہہ میں بندشیں نافذ کی گئی ہیں۔ لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر Kavinder گپتا نے تشدد کے واقعات کی سخت مذمت کی ہے اور امن و سکون قائم رکھنے کی اپیل کی ہے۔
لیہہ میں پُرتشدد جھڑپوں کے تناظر میں بندشیں نافذ کیے جانے کے بعد صورتحال کنٹرول میں ہے۔ رات میں کسی ناخوشگوار واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔ لیہہ کے ڈپٹی کمشنر Domail Singh Donk نے لیہہ کے SSP کے ہمراہ کَل رات دیر گئے میڈیا کو حالات کی جانکاری دی۔ اُنہوں نے سبھی لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ امن و سکون برقرار رکھیں اور BNSS 2023 کے تحت بندشوں پر عمل کریں۔×