امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایرانی حکام اپنے ملک میں جاری بے چینی کے دوران مظاہرین کو پھانسیاں دیتے رہے، تو امریکہ اُس پر زور دار طریقے سے کارروائی کرے گا۔ ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ امریکہ، مظاہرین کو پھانسی دینے میں تہران کے ملوث ہونے پر بہت سخت کارروائی کرے گا۔
اِس سے پہلے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں جناب ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے مظاہرین کیلئے اُس کی مدد تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں کس سطح پر یہ ہلاکتیں ہوئی ہیں، ابھی واضح نہیں ہے اور وہ اِس صورتحال پر کسی طرح کے بیان کا منتظر ہے۔
اس سے پہلے ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ اگر مظاہرین کو ہلاک کیا گیا، تو امریکہ مداخلت کرے گا۔
سرکاری وکیلوں کے یہ کہے جانے کے بعد کہ حراست میں لیے گئے کچھ لوگوں کو سزائے موت کے الزامات کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ اِس تشویش میں اضافہ ہو گیا ہے کہ ایران اِس بے چینی کو کچلنے کیلئے پھانسی کی سزا کا استعمال کر سکتا ہے۔
اِس سلسلے میں ایران کے حقوقِ انسانی کے ادارے نے، 26 سالہ عرفان سلطانی کے کیس کا حوالہ دیا ہے، جسے ایران کے شہر Karaj میں پچھلے ہفتے گرفتار کیا گیا تھا۔ اُسے اُس کے کنبے کے ذرائع کے مطابق سزائے موت سنائی جا چکی ہے اور آج اُسے پھانسی دی جا سکتی ہے۔×